HADITH.One

Urdu

Support
hadith book logo

HADITH.One

Urdu

System

صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔
hadith book logo

Kanz al-Ummal

.

كنز العمال

37430

37420- عن عبد الله بن الزبير قال: لما كان يوم الفتح أسلمت أم حكيم بنت الحارث بن هشام امرأة عكرمة بن أبي جهل، ثم قالت أم حكيم: يا رسول الله! قد هرب عكرمة منك إلى اليمن وخاف أن تقتله فآمنه، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: هو آمن، فخرجت في طلبه ومعها غلام لها رومي فراودها عن نفسها فجعلت تمنيه حتى قدمت به حي من عك، فاستعانتهم عليه فأوثقوه رباطا، وأدركت عكرمة وقد انتهى إلى ساحل من سواحل تهامة فركب البحر فجعل نوتى السفينة يقول له: أخلص، قال: أي شيء أقول؟ قال: قل: لا إله إلا الله، قال عكرمة: ما هربت إلا من هذا، فجاءت أم حكيم على هذا الأمر فجعلت تلح عليه وتقول: يا ابن عم! جئتك من عند أوصل الناس وأبر الناس وخير الناس، لا تهلك نفسك، فوقف لها حتى أدركته، فقالت: إني قد استأمنت لك رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: أنت فعلت؟ قالت: نعم أنا كلمته فآمنك، فرجع معها، وقالت ما لقيت من غلامك الرومي - وخبرته خبره، فقتله عكرمة وهو يومئذ لم يسلم، فلما دنا رسول الله صلى الله عليه وسلم من مكة قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لأصحابه: يأتيكم عكرمة بن أبي جهل مؤمنا مهاجرا، فلا تسبوا أباه فإن سب الميت يؤذي الحي ولا يبلغ الميت، قال: وجعل عكرمة يطلب امرأته يجامعها فتأبى عليه وتقول: إنك كافر وأنا مسلمة، فيقول: إن أمرا منعك مني لأمر كبير، فلما رأى النبي صلى اله عليه وسلم عكرمة وثب إليه وما على النبي صلى الله عليه وسلم رداء فرحا بعكرمة، ثم جلس رسول الله صلى الله عليه وسلم فوقف بين يديه ومعه زوجته متنقبة، فقال: يا محمد! إن هذه أخبرتني أنك آمنتني، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: صدقت فأنت آمن.قال عكرمة فإلى م تدعو يا محمد؟ أدعوك إلى أن تشهد أن لا إله إلا الله وأني رسول الله وأن تقيم الصلاة وتؤتي الزكاة وتفعل وتفعل، حتى عد خصال الإسلام فقال عكرمة: والله! ما دعوت إلا إلى الحق وأمر حسن جميل، قد كنت والله فينا قبل أن تدعو إلى ما دعوت إليه وأنت أصدقنا حديثا وأبرنا برا، ثم قال عكرمة: فإني أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله، فسر بذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم قال: يا رسول الله! علمني خير شيء أقوله، فقال: تقول: أشهد أن لا إله إلا الله وأن محمدا عبده ورسوله، فقال عكرمة: ثم ماذا؟ قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: تقول: أشهد الله وأشهد من حضر أني مسلم مجاهد مهاجر، فقال عكرمة ذلك فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا تسألني اليوم شيئا أعطيه أحدا إلا أعطيتكه، قال عكرمة: فإني أسألك أن تستغفر لي كل عداوة عاديتكها أو مسير أوضعت فيه أو مقام لقيتك فيه أو كلام قلته في وجهك أو أنت غائب عنه، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: اللهم اغفر له كل عداوة عادانيها وكل مسير سار فيه إلى موضع يريد بذلك المسير إطفاء نورك، واغفر له ما نال مني من عرض في وجهي أو غائب عنه، فقال عكرمة: رضيت يا رسول الله، ثم قال عكرمة: أما والله يا رسول الله! لا أدع نفقة كنت أنفقتها في صد عن سبيل الله إلا أنفقت ضعفها في سبيل الله ولا قتالا كنت أقاتل في صد عن سبيل الله إلا أبليت ضعفه في سبيل الله؛ ثم اجتهد في القتال حتى قتل شهيدا، فرد رسول الله صلى الله عليه وسلم امرأته بذلك النكاح الأول. قال الواقدي عن رجاله: وقال سهيل بن عمرو يوم حنين: لا يختبرهما محمد وأصحابه، قال: يقول له عكرمة: إن هذا ليس يقول إنما الأمر بيد الله وليس إلى محمد من الأمر شيء، إن أديل عليه اليوم فإن له العاقبة غدا. قال يقول سهيل: والله إن عهدك بخلافة لحديث، قال: يا أبا يزيد! إنا كنا والله نوضع في غير شيء وعقولنا عقولنا نعبد حجرا لا يضر ولا ينفع."الواقدي، كر".
٣٧٤١٩۔۔۔ حضرت عبداللہ بن زبیر (رض) کی روایت ہے کہ فتح مکہ کے دن عکرمہ بن ابی جہل (رض) کی بیوی ام حکیم بنت حارث بن ہشام نے اسلام قبول کرلیا اور عرض کیا : یارسول اللہ ! عکرمہ آپ سے ڈر کر یمن کی طرف بھاگ گیا ہے اسے خوف ہے کہ آپ اسے قتل کردیں گے آپ اسے امن دیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اسے امن ہے ام حکیم (رض) عکرمہ کی تلاش میں نکل پڑیں ان کے ساتھ ان کا ایک رومی غلام بھی تھا رومی غلام خواہش نفس کے لیے ام حکیم کو پھسلانے لگا ام حکیم اسے تمنا دلواتی رہی حتیٰ کہ قبیلہ عک کی ایک بستی پر پہنچیں بستی والوں سے غلام کے خلاف مدد چاہی بستی والوں نے غلام باندھ دیا ام حکیم تہامہ کے ساحل کی طرف آئیں جب کہ عکرمہ (رض) ساحل پر پہنچ کر کشتی میں سوار ہوئے کشتی ڈگمگانے لگی کشتی بان نے کہا : یہاں اخلاص سے رب کو پکارو عکرمہ (رض) بولے : میں کیا کہوں ؟ کشتی بان نے کہا : لاالہ الا اللہ کہو عکرمہ بولے : میں تو اسی کلمہ سے بھاگ کر یہاں پہنچا ہوں لہٰذا مجھے ہیں اتاردو۔ اتنے میں ام حکیم (رض) نے عکرمہ (رض) کو آن لیا اور بولیں : اے میرے چچا کے بیٹے میں تیرے پاس ایسی ہستی کے پاس سے آئی ہوں جو سب سے زیادہ صلہ رحم لوگوں پر سب سے زیادہ مہربانی کرنے والا اور لوگوں میں سب سے افضل ہے اپنے آپ کو ہلاکت میں مت ڈالو ام حکیم (رض) نے خوب اصرار کیا عکرمہ رک گئے جب ام حکیم پاس پہنچیں بولیں : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے تمہاری بخشی کر والی ہے عکرمہ بولے : یہ کام تم نے کیا ہے ؟ بولیں : جی ہاں میں نے ہی آپ سے بات کی آپ نے تمہیں امان دیا ہے۔ ام حکیم کے ساتھ عکرمہ واپس لوٹ آئے ام حکیم نے رومی غلام کی بدکرداری کا ذکر کیا عکرمہ (رض) نے اسے قتل کردیا حالانکہ ابھی عکرمہ (رض) نے اسلام قبول نہیں کیا تھا ۔ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ کے قریب ہوئے تو فرمایا : عکرمہ بن ابی جہل مومن و مہاجر ہو کر آئے گا لہٰذا تم اس کے باپ کو گالیاں مت دو چونکہ مردے کو گالی دینا زندہ کو اذیت پہنچانا ہے جب کہ وہ گالی مردے کو نہیں پہنچی عکرمہ (رض) نے اپنی بیوی سے قضائے حاجت کا مطالبہ شروع کردیا مگر وہ مسلسل انکار کرتی رہی اور کہہ دیتی تو کافر ہے میں تو مسلمان ہوں وہ کہتے تجھے کسی عظیم تر معاملہ نے مجھ سے روک دیا ہے۔ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عکرمہ (رض) کو دیکھا تو آپ ان کی طرف کو دپڑے آپ کو مارے خوشی کے اپنے اوپر لینے کا بھی خیال نہیں رہا پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیٹھ گئے اور عکرمہ (رض) آپ کے سامنے کھڑے رہے ان کے ساتھ ان کی بیوی بھی نقاب کیے ہوئے تھی عکرمہ بولے : یا محمد ! اس عورت نے مجھے بتایا ہے کہ آپ نے میری جان بخش دی ہے حکم ہوا ! یہ سچ کہتی ہے تمہیں امان ہے۔ عکرمہ بولے : اے محمد ! کس کی دعوت دیتے ہو فرمایا : میں تمہیں دعوت دیتا ہوں کہ تم گواہی دو ” اللہ کے سواء کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں یہ کہ نماز قائم کروزکوۃ دو اور فلاں فلاں کام کرو ” حتیٰ کہ آپ نے اسلام کی چند خصلتیں گنیں عکرمہ (رض) نے کہا : اللہ کی قسم آپ کو دعوت حق دیتے ہیں بخدا ! قبل ازیں بھی آپ نے ہمارے اندررہتے ہوئے اس کی دعوت دی جب کہ آپ سب سے سچے اور سب سے زیادہ مہربان تھے بولے : میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اقرار شہادت سے بہت خوش ہوئے عرخ کیا : یارسول اللہ ! مجھے سب سے بہترین چیز کی تعلیم دیں جسے میں کہوں فرمایا تم کلمہ شہادت کہو عکرمہ (رض) نے کلمہ شہادت دھرایا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آج تم مجھ سے جو چیز مانگوں گے میں تمہیں ضروردوں گا۔ عکرمہ (رض) نے عرض کیا : میں آپ سے سوال کرتا ہوں کہ میں جو آپ سے جس طرح کی بھی عداوت کی ہے یا کوئی بھی آپ کے خلاف سفر کیا ہے یا جہاں کہیں بھی آپ سے جنگ کی ہے یا آپ کی شان میں جو بھی گستاخی کی ہے خواہ آپ حاضر تھے یا غائب ان سب امور کی اللہ تعالیٰ سے استغفار کریں تاکہ اللہ تعالیٰ مجھے معاف کردے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یا اللہ اس نے جو بھی مجھ سے عدوات کی اور تیرے نور کو مٹانے کے لیے جہاں بھی اس نے سفر کیا اس میرے سامنے جو بھی میری گستاخی کی یا غائبانہ طور پر گستاخی کی اسے معاف فرما عکرمہ بولے : یارسول اللہ میں راضی ہوں میں نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں رکاوٹ بننے کے لیے جو اخراجات کیے میں ان کا دگنا اللہ کی راہ میں خرچ کروں گا میں نے اللہ کی راہ میں رکاوٹ بننے کے لیے جس جو انمرادی سے لڑا ہوں اس کا دگنا اللہ کی راہ میں لڑوں گا پھر عکرمہ (رض) نے ہتھلی پر جان رکھ کر اسلام کے لیے بےدریغ لڑے آخر (یرموک میں ) شہید ہوئے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عکرمہ (رض) کی بیوی پہلے نکاح ہی میں انھیں واپس کردی واقدی اپنے شیوخ سے نقل کرتے ہیں کہ سہیل بن عمرو نے حنین کے دن کہا : محمد اور اس کے ساتھیوں نے عکرمہ اور اس کی بیوی کا امتحان نہیں لیا عکرمہ نے اس سے کہا : وہ یہ کچھ نہیں چاہتے۔ معاملہ تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے محمد کے ہاتھ میں تو نہیں ہے اگر میں آج پہلو تہی کروں گا تو کل اس کا انجام مجھے ہی بھگتنا پڑے گا سہیل نے کہا : بخدا تمہارا واقعہ تو اس کے خلاف ہے۔ عکرمہ (رض) بولے : اے ابویزید ! ہم اس سے قبل بخدا ! غیر موزوں مقام میں تھے ہمارے عقلیں الٹی پڑی تھیں ہم پتھروں کی پوجا کرتے تھے جو نہ نفع کے مالک تھے نہ نقصان کے۔ (رواہ الواقدی وابن عساکر)

پڑھنے کی ترتیبات

Urdu

System

عربی فونٹ منتخب کریں

Kfgq Hafs

ترجمہ فونٹ منتخب کریں

Noori_nastaleeq

22
17

عام ترتیبات

عربی دکھائیں

ترجمہ دکھائیں

حوالہ دکھائیں

حدیث دو حصوں میں دیکھیں


صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔

Kanz al-Ummal

كنز العمال

Kanz al-Ummal

صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔