HADITH.One

Urdu

Support
hadith book logo

HADITH.One

Urdu

System

صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔
hadith book logo

Kanz al-Ummal

.

كنز العمال

37448

37438- عن جويرية قال بعضه عن نافع وبعضه عن رجل من ولد أبي الدرداء قال: استأذن أبو الدرداء عمر في أن يأتي الشام، فقال: لا آذن لك إلا أن تعمل، قال: فإني لا أعمل، قال: فإني لا آذن لك، قال: فانطلق فأعلم الناس سنة نبيهم صلى الله عليه وسلم وأصلي بهم، فأذن له، فخرج عمر إلى الشام فلما كان قريبا منهم أقام حتى أمسى، فلما جنه الليل قال: يا يرفأ! إنطلق إلى يزيد بن أبي سفيان أبصره عنده سمار ومصباح مفترشا ديباجا وحريرا من فيء المسلمين فتسلم عليه فيرد عليك السلام وتستأذن فلا يأذن لك حتى يعلم من أنت؟ فانطلقنا حتى انتهينا إلى بابه فقال: السلام عليكم، فقال وعليكم السلام، قال: أدخل؟ قال: ومن أنت؟ قال يرفأ: هذا من يسوءك، هذا أمير المؤمنين! ففتح الباب فإذا سمار ومصباح وإذا هو مفترش ديباجا وحريرا لم فقال: يا يرفأ! الباب الباب! ثم وضع الدرة بين أذنيه ضربا، وكور1 المتاع فوضعه وسط البيت، ثم قال للقوم: لا يبرح منكم أحد حتى أرجع إليكم، ثم خرجا من عنده، ثم قال: يا يرفأ! انطلق بنا إلى عمرو بن العاص أبصره عنده سمار ومصباح، مفترش ديباجا من فيء المسلمين، فتسلم عليه فيرد عليك وتستأذن عليه فلا يأذن لك حتى يعلم من أنت. فانتهينا إلى بابه فقال عمر: السلام عليكم، قال: وعليكم السلام، قال: أدخل! قال: ومن أنت؟ قال يرفأ: هذا من يسوءك هذا أمير المؤمنين! ففتح الباب فإذا سمار ومصباح وإذا هو مفترش ديباجا وحريرا، يا يرفأ! الباب الباب! ثم وضع الدرة بين أذنيه ضربا، ثم كور المتاع فوضعه في وسط البيت، ثم قال للقوم: لا تبرحن حتى أعود إليكم، فخرجا من عنده فقال: يا يرفأ! انطلق بنا إلى أبي موسى أبصره عنده سمار ومصباح مفترشا صوفا من مال فيء المسلمين فتستأذن عليه فلا يأذن لك حتى يعلم من أنت. فانطلقنا إليه وعنده سمار ومصباح مفترشا صوفا فوضع الدرة بين أذنيه ضربا وقال: أنت أيضا يا أبا موسى! فقال: يا أمير المؤمنين! هذا وقد رأيت ما صنع أصحابي، أما والله لقد أصبت مثل ما أصابوا، قال: فما هذا؟ قال: زعم أهل البلد أنه لا يصلح إلا هذا؛ فكور المتاع فوضعه في وسط البيت، وقال للقوم: لا يخرجن منكم أحد حتى أعود إليكم، فلما خرجنا من عنده قال: يا يرفأ! انطلق بنا أخي لنبصرنه ليس عنده سمار ولا مصباح وليس لبابه غلق1 مفترشا بطحاء متوسدا بردعة2 عليه كساء رقيق قد أذاقه البرد فتسلم عليه فيرد عليك السلام وتستأذن فيأذن لك من قبل أن يعلم من أنت، فانطلقنا حتى إذا قمنا على بابه قال: السلام عليكم، قال: وعليك السلام، قال: أأدخل؟ قال: ادخل، فدفع الباب فإذا ليس له غلق، فدخلنا إلى بيت مظلم فجعل عمر يلمس حتى وقع عليه، فجس وسادة فإذا بردعة، وجس فراشه فإذا بطحاء، وجس دثاره3 فإذا كساء رقيق، فقال أبو الدرداء: من هذا؟ أمير المؤمنين؟ قال: نعم، قال: أما والله لقد استبطأتك منذ العام، قال عمر: رحمك الله ألم أوسع عليك؟ ألم أفعل بك؟ فقال له أبو الدرداء، أتذكر حديثا حدثناه رسول الله صلى الله عليه وسلم يا عمر! قال: أي حديث؟ قال: ليكن بلاغ أحدكم من الدنيا كزاد الراكب، قال: نعم، قال: فماذا فعلنا بعده يا عمر؟ قال: فما زالا يتجاوبان بالبكاء حتى أصبحا."اليشكري في اليشكريات، كر".
٣٧٤٣٧۔۔۔ جویریہ مندرجہ ذیل حدیث کا کچھ حصہ نافع سے روایت کرتے ہیں اور کچھ حصہ ابودرداء کی اولاد میں سے ایک شخص سے کہتے ہیں : ابودرداء (رض) نے حضرت عمر (رض) سے شام جانے کے لیے اجازت طلب کی حضرت عمر (رض) نے فرمایا : میں تمہیں اجازت نہیں دے سکتا الایہ کہ تم عامل کا عہدہ قبول کرو ابودرداء (رض) نے کہا : میں عامل۔ (گورنر) نہیں بننا چاہتا۔ حضرت عمر (رض) فرمایا : تب میں تمہیں شام جانے کی اجازت بھی نہیں دے سکتا۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : شام میں جاؤں گا تاکہ وہاں لوگوں کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت تعلیم کروں اور ان کے ساتھ نماز پڑھوں۔ تاہم انھیں اجازت دے دی۔ چنانچہ عمر (رض) شام کی طرف روانہ ہوگئے جب شام میں مسلمانوں کی چھاؤنی نے قریب پہنچے تو باہر ہی قیام کیا حتیٰ کہ جب شام ہوئی اور رات چھاگئی فرمایا : اے یرفاء۔ (خادم کا نام تھا) مجھے یزید بن ابی سفیان کے پاس لے چلوتا کہ میں دیکھوں کہ اس کے پاس رات کو باتیں کرنے والے ہیں چراغ جل رہے ہیں یا نہیں اور وہ مسلمانوں کے مال غنیمت سے لیے دریباج وریشم کے بچھونے پہ سویا ہے تم اسے سلام کرنا وہ تجھے سلام کا جواب دے گا تم اس سے اجازت طلب کرنا وہ تمہیں اجازت نہیں دے گا حتیٰ اسے معلوم ہوجائے کہ تم کون ہو چنانچہ ہم چل پڑے جب دروازے پر پہنچے یرفا نے کہا : السلام علیکم ! یزید بن ابی سفیان (رض) بولے : وعلیکم السلام بولا : کیا میں اندر داخل ہوجاؤں ؟ جواب ملا : تو کون ہے۔ کہا میں ترفاء ہوں اور یہ وہ شخص ہے جس کا آنا تمہیں اچھا نہیں لگتا اور یہ امیرالمومنین ہیں۔ یزید بن ابی سفیان (رض) نے دروازہ کھولا کیا دیکھتے ہیں کہ رات کو باتیں کرنے والے موجود ہیں چراغ جل رہا ہے اور وہ خود دیباج وریشم کا بچھونا لگائے بیٹھے ہیں۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اے یرفاء دروازے پر رہو۔ پھر آپ (رض) نے درہ مارنے کے لیے کان میں رکھ لیا پھر ساز و سامان جمع کیا اور کمرے کے درمیان رکھ دیا پھر گھر میں جاضرین سے فرمایا، تم میں سے کوئی شخص یہاں سے ہلنے نہ پائے حتیٰ کہ مٰن واپس لوٹ آؤں۔ پھر دونوں وہاں سے نکل پڑے اور آپ (رض) نے فرمایا : اے یرفاء ! ہمیں عمرو بن العاص (رض) کے پاس لے جاؤ تاکہ ہم اس کے پاس رات کے قصہ گود دیکھیں چراغ اور دیباج وریشم کا بچھونا دیکھیں جو کہ مسلمانوں کے مال غنیمت میں سے ہیں۔ تم اس پر سلام کروگے وہ تمہیں سلام کا جواب دے گا تم اندر جانے کی اجازت طلب کرنا وہ تمہیں اجازت نہیں دے گا حتیٰ کہ اسے معلوم ہوجائے تم کون ہو چنانچ ہم عمرو و (رض) دروازے پر پہنچے عمر (رض) نے کہا : السلام علیکم ! جواب ملاو علیکم السلام کہا : میں داخل ہوسکتا ہوں جو اب دیا : تم کون ہو ؟ یرفا نے جواب دیا : یہ وہ شخص ہے جس کا آنا تمہیں اچھا نہیں لگے یہ امیرالمومنین ہیں عمر (رض) نے دروازہ کھولا کیا دیکھتے ہیں کہ رات کے قصہ گویا چراغ اور دیباج وریشم کے بچھونے موجود ہیں۔ عمر (رض) نے فرمایا : اے یرفاء ! دروازے پر رہو پھر آپ (رض) نے سازوسامان جمع کیا اور گھر کے درمیان رکھ دیا آپ نے درہ کان میں رکھ دیا فرمایا : تم لوگ یہاں سے ہرگز ہلنے نہ پاؤ تاوقتیکہ میں واپس لوٹ آؤں۔ فرمایا : اے یرفاء ہمیں ابوموسیٰ کے پاس لے جاؤ تاکہ میں وہاں رات کے قصہ گو چراغ اور صوف کے بچھونے دیکھوں جو کہ مسلمانوں کے مال غنیمت سے ہیں۔ تم اس سے اجازت طلب کرو گے وہ تمہیں اجازت دے گا حتیٰ کہ اسے معلوم ہوجائے گا کہ تم کون ہو۔ چنانچہ ہم چل پڑے ہم نے ابوموسیٰ (رض) کے پاس رات کے قصہ گو چراغ اور صوف (اون) کے بچھونے دیکھے عمر (رض) نے مارنے کے لیے درہ کان میں رکھ لیا اور فرمایا : اے ابوموسیٰ تم بھی ایسے ہوگئے ہو ابوموسیٰ (رض) نے کہا : اے امیرالمومنین ! آپ نے یہ جو کچھ دیکھا ہے میرے ساتھیوں نے کیا ہے۔ اللہ کی قسم مجھے بھی وہی کچھ مل پایا ہے جو کچھ دوسرے لوگوں کو ملا ہے۔ فرمایا : یہ کیا ہے جواب دیا : شہراوالوں کو خیال ہے یہ ہی چیز اصلح اور زیادہ مناسب ہے۔ چنانچہ آپ (رض) نے سامان لپیٹا اور گھر کے درمیان رکھ دیا حاضرین سے فرمایا : تم میں سے کوئی شخص یہاں سے نکلنے نہ پائے تاوقتیکہ میں تمہارے پاس لوٹ نہ آؤں۔ جب ہم ان کے پاس سے نکلے عمر (رض) بولے : اے یرفاء اب ہمیں ہمارے بھائی کے پاس لے چلو ہم اسے ضرور دیکھیں گے اس کے پاس رات کی قصہ گوئی ہوگی اور نہ ہی چراغ جل رہا ہوگا اس کے دروازہ پر تالہ بھی نہیں ہوگا اس کا بچھونا کنکریاں ہوں گی اس نے عام سی گدڑی کا تکیہ بنا رکھا ہوگا اور اپنے اوپر باریک سی چادر اوڑھی ہوگی وہ سردی سے ٹھٹھر رہا ہوگا تو اسے سلام کرے گا وہ تجھے سلام کا جواب دے گا اس سے اجازت طلب کرے گا وہ تجھے اجازت دے دے گا قبل ازیں کہ اسے معلوم ہو تم کون ہو ہم چل پڑے حتیٰ کہ جب اس کے دروازے پر پہنچے عمروضی اللہ نے کہا : السلام علیکم جواب ملا وعلیکم والسلام کہا : میں اندر آجاؤں ؟ جواب ملا اندر آجاؤ چنانچہ عمر (رض) دروازہ کھول کر اندر گئے دروازے پر کوئی رکاوٹ نہیں ہم تاریک گھر میں داخل ہوئے عمر (رض) اسے تلاش کرنے لگے بالاخر ان کا ہاتھ اس پر جالگا تکیہ ٹٹول کر دیکھا وہ عام سی گڈری کا بنا تھا ان کا بچھونا دیکھا تو وہ کنکریوں کا تھا اوڑھنی دیکھی تو وہ عام باریک سی چادر تھی۔ ابودرداء (رض) بولے : یہ کون ہے ؟ کہا امیرالمومنین ہیں فرمایا : جی ہاں کہا بخدا میں آپ کو اس سال سے موخر کرتا رہا ہوں عمر (رض) نے کہا : اللہ تعالیٰ تجھ پر رحم فرمائے کیا میں تمہیں وسعت نہ دے دوں ؟ کیا میں تمہیں آسودگی میں نہ کردوں ؟ ابودرداء (رض) بولے : کیا آپ کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیان کردہ حدیث یاد ہے عمر (رض) نے پوچھا : کونسی حدیث کہا : وہ یہ ہے کہ ” تمہیں دنیا میں اتنا گزارہ ہے کافی ہے جتنا کہ مسافر کا زادراہ عمر (رض) بولے : جی ہاں ابودرداء (رض) نے کہا : اے عمر ! پھر ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد کیا کرنا شروع کردیا ہے۔ چنانچہ کہ مسافر کا زادراہ عمر (رض) بولے : جی ہاں ابودرداء (رض) نے کہا : اے عمر ! پھر ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد کیا کرنا شروع کردیا ہے۔ چنانچہ دونوں صبح تک پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔ (رواہ الیشکری فی الیشکریات وابن عساکر)

پڑھنے کی ترتیبات

Urdu

System

عربی فونٹ منتخب کریں

Kfgq Hafs

ترجمہ فونٹ منتخب کریں

Noori_nastaleeq

22
17

عام ترتیبات

عربی دکھائیں

ترجمہ دکھائیں

حوالہ دکھائیں

حدیث دو حصوں میں دیکھیں


صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔

Kanz al-Ummal

كنز العمال

Kanz al-Ummal

صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔