HADITH.One

Urdu

Support
hadith book logo

HADITH.One

Urdu

System

صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔
hadith book logo

Kanz al-Ummal

.

كنز العمال

37456

37446- "مسند عمر" عن محمد بن مزاحم أن عمر بن الخطاب كان استعمل بعد موت أبي عبيدة بن الجراح على حمص عمير بن سعد الأنصاري فأقام بها سنة فكتب إليه عمر بن الخطاب: إنا بعثناك على عمل من أعمالنا فما ندري أوفيت بعهدنا أم خنتنا؟ فإذا جاءك كتابي هذا فانظر ما اجتمع عندك من الفيء فاحمله إلينا والسلام. فقام عمير حين انتهى إليه الكتاب فحمل عكازته وعلق فيها إداوته وجرابه فيه طعامه وقصعته فوضعها على عاتقه حتى دخل على عمر فسلم فرد عليه السلام - وما كاد أن يرد - فقال: يا عمير! ما لي أرى بك من سوء الحال! أمرضت بعدي أم بلادك سوء أم هي خديعة منك لنا؟ فقال عمير: ألم ينهك الله عن التجسس؟ ما ترى في سوء الحال؟ ألست طاهر الدم صحيح البدن قد جئتك بالدنيا أحملها على عاتقي؟ قال: يا أحمق! وما الذي جئت به من الدنيا؟ قال: جرابي فيه طعامي، وإداوتي فيها وضوئي وشرابي، وقصعتي فيها أغسل رأسي، وعكازتي بها أقاتل عدوي وأقتل بها حية إن عرضت لي؛ قال صدقت يرحمك الله! فما فعل المسلمون؟ قال: تركتهم يوحدون ويصلون، ولا تسأل عما سوى ذلك، قال: فما فعل المعاهدون؟ قال: أخذنا منهم الجزية عن يد وهم صاغرون، قال فما فعلت فيما أخذت منهم؟ وما أنت وذاك يا عمر! اجتهدت واختصصت نفسي ولم آل أني لما قدمت بلاد الشام وجمعت من بها من المسلمين فاخترنا منهم رجلا فبعثناهم على الصدقات فنظرنا إلى ما اجتمع فقسمناه بين المهاجرين وبين فقراء المسلمين، فلو كان عندنا فضل لبلغناك، فقال: يا عمير! جئت تمشي على رجليك؟ أما كان فيهم رجل يتبرع لك بدابة؟ فبئس المسلمون وبئس المعاهدون! أما إني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: ليلينهم رجال إن هم سكتوا أضاعوهم، وإن هم تكلموا قتلوهم وسمعته يقول: لتأمرن بالمعروف ولتنهون عن المنكر أو ليسلطن الله عليكم شراركم فيدعوا خياركم فلا يستجاب لهم فقال: يا عبد الله بن عمر! هات صحيفة نجدد لعمير عهدا، قال: لا والله! لا أعمل لك على شيء أبدا: قال: لم؟ قال: لأني لم أنج، وما نجوت لأني قلت لرجل من أهل العهد: أخزاك الله! وقد سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: أنا ولي خصم المعاهد واليتيم، ومن خاصمته خصمته. فما يؤمنني أن يكون محمد صلى الله عليه وسلم خصمي يوم القيامة، ومن خاصمه خصمه، فقام عمر وعمير إلى قبر رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال عمير: السلام عليك يا رسول الله! السلام عليك يا أبا بكر! ماذا لقيت بعدكما! اللهم الحقني بصاحبي لم أغير ولم أبدل! وجعل يبكي عمر وعمير طويلا، فقال: عمير! الحق بأهلك، ثم قدم على عمر مال من الشام فدعا رجلا من أصحابه يقال له حبيب فصر مائة دينار فدفعها إليه فقال: ائت بها عميرا وأقم ثلاثة أيام ثم ادفعها إليه وقل: استعن بها على حاجتك - وكان منزله من المدينة مسيرة ثلاثة أيام - وانظر ما طعامه وما شرابه, فقدم حبيب فإذا هو بفناء بابه يتفلى، فسلم عليه فقال: إن أمير المؤمنين؟ يقرئك السلام، قال: عليك وعليه السلام، قال: كيف تركت أمير المؤمنين؟ قال: صالحا، قال: لعله يجور في الحكم؟ قال: لا، قال: فلعله يرتشي؟ قال: لا، قال: فلعله يضع السوط في أهل القبلة، قال: لا إلا أنه ضرب ابنا له فبلغ به حدا فمات فيها، اللهم اغفر لعمر فإني لا أعلم إلا أنه يحبك ويحب رسولك ويحب أن يقيم الحدود، فأقام عنده ثلاثة أيام يقدم إليه كل ليلة قرصا بإدامه زيت، حتى إذا كان اليوم الثالث قال: ارحل عنا فقد أجعت أهلنا، إنما كان عندنا فضل آثرناك به، فقال: هذه الصرة أرسل بها إليك أمير المؤمنين أن تستعين بها على حاجتك، فقال: هاتها، فلما قبضها عمير قال: صحبت رسول الله صلى الله عليه وسلم فلم أبتل بالدنيا، وصحبت أبا بكر فلم أبتل بالدنيا، وصحبت عمر وشر أيامي يوم لقيت عمر - وجعل يبكي، فقالت امرأته من ناحية البيت: لا تبك يا عمير! ضعها حيث شئت: فاطرحي إلي بعض خلقانك1 فطرحت إليه بعض خلقانها فصر الدنانير بين أربعة وخمسة وستة فقسمها بين الفقراء وابن السبيل حتى قسمها كلها، ثم قدم حبيب على عمر فأخبره الخبر، قال ما فعلت الدنانير؟ قال: فرقها كلها، قال: فلعل على أخي دينا! قال: فاكتبوا إليه حتى يقبل إلينا، فقدم عمير على عمر، فسأله فقال: يا عمير! ما فعلت الدنانير؟ قال: قدمتها لنفسي وأقرضتها ربي، وما كنت أحب أن يعلم بها أحد، قال: يا عبد الله بن عمر! قم فارحل له راحلة من تمر الصدقة فأعطها عميرا، وهات ثوبين فتكسوهما إياه فقال عمير: أما الثوبان فنقبلهما، وأما التمر فلا حاجة لنا فيه. فإني تركت عند أهلي صاعا من تمر وهو يبلغهم إلى يوم ما، قال: فانصرف عمير إلى منزله فلم يلبث إلا قليلا حتى مات فبلغ ذلك عمر فقال: رحم الله عميرا! ثم قال لأصحابه تمنوا، فتمنى كل رجل أمنيته فقال عمر: ولكني أتمنى أن يكون رجال مثل عمير فاستعين بهم على أمور المسلمين. "كر".
٣٧٤٤٥۔۔۔” مسند عمر “ محمد بن مزاحم کی روایت ہے کہ حضرت عمروبن خطاب (رض) نے حضرت ابوعبیدہ (رض) کی وفات کے بعد حضرت عمیر بن سعد (رض) کو حمص کا گورنر بنا کر بھیجا ایک سال تک حضرت عمر (رض) کے پاس ان کی کوئی خیر خبر نہیں آئی حضرت عمر (رض) نے ایک دن اپنے کاتب کو حکم دیا عمیر کو خط لکھو اللہ کی قسم میرا قسم میرا خیال ہے کہ عمیر نے ہمارے ساتھ خیانت کی ہے۔ خط کا مضمون یہ تھا۔
” جونہی میرا خط تمہیں ملے فورا میرے پاس آجاؤ اور میرا خط پڑھتے ہی تم وہ سارا مال ساتھ لے کر آؤ جو تم نے مسلمانوں کے مال غنیمت میں سے جمع کررکھا ہے “۔
چنانچہ خط پڑھتے ہی حضرت عمیر (رض) مدینہ کے لیے تیار ہوئے اپنا چمڑے کا تھیلالیا اور اس میں اپنا توشہ اور پیالہ رکھا چمڑے کا لوٹا تھیلے سے باندھ کر لٹکا لیا اپنی لاٹھی لی اور حمص سے پیدل چل کر مدینہ منورہ پہنچے مدینہ پہنچے تو آپ کا رنگ بدلا ہوا تھا چہرہ غبار آلود تھا بال لمبے ہوچکے تھے حضرت عمر (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا : السلام علیک یا امیرالمومنین حضرت عمر (رض) نے پوچھا : تمہارا کیا حال ہے ؟ عمیر (رض) بولے : آپ مجھے کس حال حال میں دیکھ رہے ہیں کیا آپ دیکھ نہیں رہے کہ میں صحتمند اور پاکیزہ صاف وستھرے خون والا ہوں اور میرے ساتھ میری دنیا ہے جس کی باگ پکڑ کر میں کھینچ لایا ہوں حضرت عمر (رض) سمجھے یہ اپنے ساتھ بہت سامال لائے ہوں گے جو ابھی پہنچے ہیں اس لیے پوچھا : تمہارے ساتھ کیا مال ہے حضرت عمیر (رض) نے جواب دیا : میرے پاس میرا تھیلا ہے جس میں میں اپنا توشہ اور پیالہ رکھتا ہوں پیالہ میں کھا بھی لیتا ہوں سردھولیتا ہوں اور اسی میں کپڑے بھی وھولیتا ہوں ایک لوٹا ہے جس میں وضو کرتا ہوں اور پیسے رکھتا ہوں میری ایک لاٹھی ہے جس پر میں ٹیک لگاتا ہوں اگر کوئی دشمن سامنے آجائے تو اس سے اس کا مقابلہ بھی کرتا ہوں اللہ کی قسم دنیا میرے اس سامان کے علاوہ ہے (یعنی میری دنیاوی ضروریات اس سے پوری ہوجاتی ہیں) پھر حضرت عمر (رض) عہ نے پوچھا : حمص سے تم پیدل چل کر آئے ہو ؟ عرض کیا : جی ہاں ، فرمایا : کیا وہاں تمہارا کوئی تعلقدار نہیں جس سے سواری کے کر آجاتے ؟ عرض کیا : وہاں کے لوگوں نے مجھے سواری نہیں دی اور نہ ہی میں نے ان سے سواری کا طالبہ کیا ہے۔ عمر (رض) نے فرمایا : بہت برے مسلمان ہیں وہ جنہوں نے اپنے گورنر کا خیال نہیں رکھا عمیر (رض) نے کہا : اے عمر ! اللہ سے ڈریئے اللہ تعالیٰ نے غیبت سے منع فرمایا ہے جب کہ میں نے وہاں کے لوگوں کو صبح کی نماز پڑھتے دیکھا ہے (جو شخص نماز پڑھ لیتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی ذمہ داری میں آجاتا ہے) حضرت عمر (رض) نے فرمایا : میں نے تمہیں کہاں بھیجا تھا اور تم نے کیا کیا ؟ عمیر (رض) نے کہا : امیرالمومنین آپ کیا پوچھنا چاہتے ہیں میں سمجھا نہیں ہوں۔ عمر (رض) نے فرمایا : سبحان اللہ (سوال تو واضح ہے) حضرت عمیر (رض) نے کہا : اگر یہ ڈرنہ ہو تاکہ بتانے سے آپ غم گین ہوں گے تو میں آپ کو نہ بتاتا آپ نے جہاں مجھے بھیجا تھا وہاں پہنچ کر میں نے نیک لوگوں کو جمع کیا اور مسلمانوں سے مال غنیمت جمع کرنے کا ان کو ذمہ دار بنایا چنانچہ جب وہ مال جمع کرکے لے آئے میں نے وہ مال صحح مصرف میں خرچ کیا اگر شرعا اس میں آپ کا حصہ ہوتا میں آپ کے پاس ضرور لے کر آتا عمر (رض) نے فرمایا : کیا تم ہمارے پاس کچھ نہیں لائے ؟ حضرت عمیر (رض) نفی میں جواب دیا : حضرت عمر (رض) نے فرمایا یہ تو اچھے گورنر ہیں جو اپنے ساتھ کچھ نہیں لے کر آئے لہٰذا ان کے لیے دوبارہ حمص کی گورنری کا عہدنامہ لکھ دو حضرت عمیر (رض) نے کہا : اب میں آپ کی طرف سے گورنر بننے کو تیار نہیں ہوں اور نہ ہی آپ کے بعد کسی اور کی طرف سے کیونکہ اللہ کی قسم ہیں۔ (اس گورنری میں خرابی سے) بچ نہ سکا۔ میں نے ایک نصرانی سے۔ (امارت کے زعم میں) کہا تھا : اے فلاں اللہ تعالیٰ تجھے ذلیل کرے جب کہ ذمی کو تکلیف پہنچانا برا کام ہے اے عمر آپ نے مجھے گورنر بنا کر بڑی خرابیوں میں مبتلا کیا ہے۔ اے عمر میری زندگی کے سب سے برے دن وہ ہیں جن میں میں آپ کے ساتھ پیچھے رہ گیا (اور دنیا سے چلا نہیں گیا) پھر عمیر (رض) نے حضرت عمر (رض) سے اجازت طلب کی حضرت عمر (رض) نے انھیں اجازت دے دی چنانچہ عمیر (رض) مدینہ سے اپنے گھر واپس لوٹ آئے ان کا گھر مدینہ سے چندمیل کے فاصلہ پر تھا۔
جب حضرت عمیر (رض) چلے گئے تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا : میرا تو یہی خیال ہے کہ عمیر نے ہم سے خیانت کی ہے (یہ حمص سے ضرور مال لے کر آیا ہے جو میرے پاس نہیں لایا بلکہ سیدھا اپنے گھر بھیج دیا ہے) پھر عمر (رض) نے حارث نامی آدمی کو سو (١٠٠) دینار دے کر کہا یہ لے جاؤ اور عمیر کے پاس جاکر اجنبی مہمان بن کر ٹھہرجاؤ اگر اس کے گھر میں مال کی فراوانی دیکھو تو فورا میرے پاس لوٹ آؤ اور اگر اس تنگی کی حالت میں میں دیکھو تو سو (١٠٠) دینار اسے دے دینا۔ حارث جب حضرت عمیر (رض) کے پاس پہنچے دیکھا کہ عمیر (رض) ایک دیوار کے ساتھ بیٹھے اپنی قمیص سے جوئیں نکال رہے ہیں حارث نے کہا : السلام علیکم ! عمیر (رض) نے سلام کا جواب دیا : عمیر (رض) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے آجاؤ اور ہمارے مہمان بن جاؤ حارث سواری سے اترا اور ان کے یہاں ٹھہرگئے پھر حضرت عمیر (رض) نے پوچھا : آپ سے آئے ہیں ؟ جواب دیا : مدینہ سے فرمایا : امیرالمومنین کو کس حال میں چھوڑا ہے ؟ جواب دیا : اچھے حال میں تھے پوچھا : مسلمانوں کا کیا حال ہے ؟ جواب دیا : وہ بھی ٹھیک ہیں عمیر (رض) نے پوچھا کیا امیر المؤمین شرعی حدود قائم نہیں کرتے ہیں : حارث نے جواب دیا : امیرالمومنین کے بیٹے سے کبیرہ گناہ ہوگیا تھا امیرالمومنین نے اس پر حد شرعی قائم کی کوڑے سے اس کی پٹائی کی جس سے اس کا انتقال ہوگیا تھا عمیر (رض) نے فرمایا : یا اللہ ! عمر کی مدد فرما جہاں تک میں جانتا ہوں وہ تجھ سے بےانتہامحبت کرتے ہیں۔
چنانچہ حارث عمیر (رض) کے ہاں تین دن تک رہے ان کے ہاں جو کی صرف ایک روٹی ہوتی تھے جسے مہمان کھا لیتا اور میزبان بھوکے رہ جاتے جب بہت زیادہ ہوگیا تو حارث سے کہا : تمہاری وجہ سے ہمارے گھر میں فاقوں تک نوبت پہنچ گئی ہے اگر مناسب سمجھوتو کہیں اور چلے جاؤ اس پر حارث نے سو دینار نکالے اور پیش کیے ساتھ کہا : یہ دینار امیرالمومنین نے آپ لے لیے بھیجے ہیں۔ آپ انھیں اپنے کام میں لائیں عمیر (رض) نے کہا : یہ واپس لے جاؤ ہمیں ضرورت نہیں اتنے میں بیوی بولی : دینار لے لو اگر ضرورت پڑی تو اس میں سے خرچ کرلینا ورنہ مناسب جگہ خرچ کردینا عمیر (رض) فرمایا : اللہ کی قسم میرے پاس کوئی جگہ ایسی نہیں ہے جہاں میں انھیں رکھوں گا اس پر ان کی بیوی نے اپنی قمیص کا نیچے والا دامن پھاڑ کر دیا جس میں انھوں نے دینار رکھ لیے پھر باہر تشریف لائے دو دوچار چار کرکے سب کے سب فقراء، مساکین اور محتاجوں میں تقسیم کردیئے حارث کا خیال تھا کہ عمیر (رض) انھیں بھی کچھ دیں گے مگر عمیر (رض) نے رخصت کرتے وقت اتنا کہا کہ
امیر المومنین کو ہمارا سلام کہنا۔
حارث جب حضرت عمر (رض) کے پاس پہنچے تو آپ (رض) نے پوچھا : عمیر کا کیا حال ہے ؟ حارث نے جواب دیا : وہ تو بہت سختی میں ہیں پوچھا : دیناروں کا کیا بنا ؟ حارث نے کہا : مجھے نہیں پتہ حضرت عمر (رض) نے خط لکھا کہ : اے عمیر یہ خط پاتے ہی فورا ! میرے پاس آجاؤ چنانچہ عمیر (رض) مدینہ آگئے حضرت عمر (رض) نے پوچھا ہم نے جو دینار بھیجے تھے ان کا کیا کیا ؟ عمیر (رض) نے جواب دیا : مجھے جو مرضی آئی کیا آپ ان دیناروں کے متعلق کیوں پوچھ رہے ہیں ؟ حضرت عمر (رض) نے کہا : میں تمہیں قسم دے کر کہتا ہوں مجھے ضرور بتاؤ دیناروں کا کیا کیا ؟ حضرت عمیر (رض) نے جواب دیا : میں نے ان کو اپنے لیے اگلے جہاں میں بھیج دیا ہے (یعنی ضرورت مندوں میں تقسیم کردیئے ہیں)
حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائے پھر حضرت عمر (رض) نے حکم دیا کہ حضرت عمیر (رض) کو ایک وسق (یعنی پانچ من دس سیر) غلہ اور دو کپڑے دیئے جائیں حضرت عمیر (رض) نے فرمایا : مجھے غلہ کی ضرورت نہیں چونکہ میں گھر پر دو صاع (سات سیر) جو چھوڑ کر آیا ہوں ان دوصاع کے کھانے سے قبل اللہ تعالیٰ اور رزق پہنچادیں گے چنانچہ عمیر (رض) نے غلہ تو نہ لیا البتہ دو کپڑے لیتے گئے اور فرمایا : فلاں ام فلاں کے پاس کپڑے نہیں ہیں (اسے دوں گا) پھر اپنے گھر واپس لوٹ آئے اور تھوڑے عرصہ بعد اللہ تعالیٰ کو پیارے ہوگئے حضرت عمر (رض) کو جب ان کی وفات کی خبر پہنچی تو فرمایا : اللہ تعالیٰ عمیر کو غریق رحمت کرے پھر آپ (رض) نے حاضرین سے کہا : ہر شخص اپنے دل میں تمنا و آرزو کرے۔ فرمایا : لیکن میں تمنا کرتا ہوں کہ میرے پاس عمیر (رض) جیسے لوگ ہوں جن کے ذریعے میں مسلمانوں کے امور (سرکاری کاموں) میں مددلوں۔ (رواہ ابن عساکر)

پڑھنے کی ترتیبات

Urdu

System

عربی فونٹ منتخب کریں

Kfgq Hafs

ترجمہ فونٹ منتخب کریں

Noori_nastaleeq

22
17

عام ترتیبات

عربی دکھائیں

ترجمہ دکھائیں

حوالہ دکھائیں

حدیث دو حصوں میں دیکھیں


صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔

Kanz al-Ummal

كنز العمال

Kanz al-Ummal

صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔