HADITH.One

Urdu

Support
hadith book logo

HADITH.One

Urdu

System

صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔
hadith book logo

Kanz al-Ummal

.

كنز العمال

37466

37456- عن عروة بن الزبير قال: جلس عمير بن وهب الجمحي مع صفوان بن أمية بعد مصاب أهل بدر بيسير في الحجر، وكان عمير شيطانا من شياطين قريش وكان ممن يؤذي رسول الله صلى الله عليه وسلم وأصحابه ويلقون منه عناء وهم بمكة، وكان ابنه وهب بن عمير أسارى بدر، فذكر أصحاب القليب ومصابهم فقال صفوان: والله إنه ليس في العيش خير بعدهم، فقال له عمير: صدقت والله! أما والله لولا دين علي ليس له عندي قضاء وعيال أخشى عليهم الضيعة1 بعدي لركبت إلى محمد حتى أقتله فإن لي قبله علة2، ابني أسير في أيديهم، فاغتنمها صفوان منه فقال: فعلي دينك أنا أقضيه عنك وعيالك مع عيالي أسوتهم ما بقوا لا يسعهم شيء ويعجز عنهم، قال عمير: فاكتم علي شأني وشأنك، قال: أفعل، ثم إن عميرا أمر بسيفه فشحذ1 له وسم ثم انطلق حتى قدم المدينة فبينا عمر بن الخطاب في نفر من المسلمين في المسجد يتحدثون عن يوم بدر ويذكرون ما أكرمهم الله به وما أراهم من عدوهم إذ نظر عمر إلى عمير بن وهب حين أناخ بعيره على باب المسجد متوشحا السيف فقال: هذا الكلب عدو الله قد جاء متوشحا سيفه، فدخل عمر على رسول الله صلى الله عليه وسلم فأخبره خبره، قال: فأدخله علي فأقبل عمر حتى أخذ بحمالة سيفه في عنقه فلببه2 بها وقال لرجال ممن كان معه من الأنصار: ادخلوا على رسول الله صلى الله عليه وسلم فاجلسوا عنده واحذروا هذا الخبيث عليه فإنه غير مأمون، ثم دخل به على رسول الله صلى الله عليه وسلم فلما رآه رسول الله صلى الله عليه وسلم وعمر آخذ بحمالة سيفه في عنقه قال: أرسله يا عمر! ادن يا عمير! فدنا ثم قال: أنعموا صباحا - وكانت تحية أهل الجاهلية بينهم - فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: قد أكرمنا الله بتحية خير من تحيتك يا عمير بالسلام تحية أهل الجنة، قال: أما والله إن كنت يا محمد لحديث عهد بها، قال ما جاء بك يا عمير؟ قال: جئت لهذا الأسير الذي في أيديكم فأحسنوا فيه، قال: فما بال، السيف في عنقك؟ قال: قبحها الله من سيوف وهل أغنت شيئا! قال: صدقني ما الذي جئت له! قال: ما جئت إلا لذلك، فقال: بلى قعدت أنت وصفوان بن أمية في الحجر فذكرتما أصحاب القليب من قريش ثم قلت: لولا دين علي وعيالي لخرجت حتى أقتل محمدا، فتحمل لك صفوان بدينك وعيالك على أن تقتلني له، والله حائل بيني وبينك! فقال عمير: أشهد أنك رسول الله، قد كنا يا رسول الله نكذبك بما كنت تأتينا من خبر السماء وما ينزل عليك من الوحي، وهذا أمر لم يحضره إلا أنا وصفوان، فوالله إني لأعلم أن ما أتاك به إلا الله! فالحمد لله الذي هداني للإسلام وساقني هذا المساق! ثم تشهد شهادة الحق، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: فقهوا أخاكم في دينه وأقرؤه وعلموه القرآن وأطلقوا له أسيره، ففعلوا، ثم قال: يا رسول الله! إني كنت جاهدا في إطفاء نور الله، شديد الأذى لمن كان على دين الله، وإني أحب أن تأذن لي فأقدم مكة فأدعوهم إلى الله وإلى الإسلام، لعل الله أن يهديهم، وإلا آذيتهم في دينهم كما كنت أوذي أصحابك في دينهم، فأذن له رسول الله صلى الله عليه وسلم فلحق بمكة، وكان صفوان حين خرج عمير بن وهب يقول لقريش: أبشروا بوقعة تأتيكم الآن في أيام تنسيكم وقعة بدر! وكان صفوان يسأل عنه الركبان حتى قدم راكب فأخبره بإسلامه، فحلف أن لا يكلمه أبدا ولا ينفعه بنفع أبدا، فلما قدم عمير مكة أقام بها يدعو إلى الإسلام ويؤذي من خالفه أذى شديدا، فأسلم على يديه أناس كثير. "إسحاق وابن جرير".
٣٧٤٥٥۔۔۔ عروہ بن زبیر کی روایت ہے کہ جنگ بدر کے بعد عمیربن وہب صفوان بن امیہ کے ساتھ حجر میں مل بیٹھے عمیر قریش کے شیاطین میں سے ایک شیطان تھا اس کا شمار ان لوگوں میں ہوتا تھا جو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کرام (رض) کو اذیتیں پہنچاتے تھے جب آپ مکہ میں تھے ہر وقت آپ کے پیچھے پڑے رہتے تھے عمیر کا بیٹا دھب بن عمیربدر کے قیدیوں میں سے تھا چنانچہ عمیر نے قلیب کنویں میں دفنائے جانے والے کفار اور پیش آنے والی مصیبت کا تذکرہ کیا صفوان نے کہا : اللہ کی قسم رؤساء قریش کے مرنے کے بعد زندگی میں لطف ومزہ نہیں رہا : عمیر نے بھی کہا : بخدا تم نے سچ کہا : اللہ کی قسم اگر مجھ پر قرض نہ ہوتا جب کہ میرے پاس ادائیگی کا سامان نہیں میرا عیال بھی ہے جس کے ضائع ہونے کا مجھے خدشہ ہے تو میں سوار ہو کر محمد تک پہنچ جاتا حتیٰ کہ اسے قتل کردیتا حالانکہ وہ میرے دادا کی اولاد ہے۔ میرا بیٹا مسلمانوں کے قبضہ میں ہے۔ لہٰذا اسے چھڑالاؤ۔ تمہارا قرضہ میرے ذمہ ہے تمہاری طرف سے میں اسے ادا کروں گا تمہارا عیال میرے عیال کے مساوی ہوگا جب تک زندہ رہیں گے انھیں کسی چیز کی کمی نہیں لگے گی عمیر (رض) نے کہا : ہماری طے ہونے والی بات کو ہر صورت پوشیدہ رکھو بولا : میں یہی کروں گا۔
پھر عمیر نے اپنی تلوار منگوائی اسے تیز کیا اور زہر آلود کرکے نکل پڑا حتیٰ کہ مدینہ پہنچ گیا اس دورن حضرت عمر (رض) مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ مسجد میں بیٹھے تھے اور غزوہ بدر کے متعلق آپس میں تبادلہ خیال کررہے تھے یکایک حضرت عمر (رض) کی نظرعمیر بن وہب پر پڑی جب اس نے مسجد کے دروازہ پر اپنا اونٹ بٹھایا عمیر نے اپنی تلوار گلے رکھی تھی عمر (رض) نے فرمایا : یہ کتا اللہ کا دشمن ہے گلے میں تلوار لٹکائے یہاں پہنچ گیا ہے عمر (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گئے اور انھیں عمیر کے آنے کی خبردی آپ نے فرمایا : اسے میرے پاس لاؤ چنانچہ حضرت عمر (رض) نے تلوار کے حمائل سے عمیر کو پکڑا اور گھسٹتے ہوئے اندر لے آئے عمر (رض) نے انصار سے کہا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس چلے جاؤ اور انہی کے پاس بیٹھو کہیں یہ خبیث آپ کو کوئی گزندنہ پہنچائے چونکہ اس کا کوئی بھروسہ نہیں جب حضرت عمر (رض) نے عمیر کو حمائل سے پکڑے ہوئے اندر داخل ہوئے اور آپ نے عمیر کو بحالت تذلیل دیکھا فرمایا اے عمر اسے چھوڑدو۔ اے عمیر میرے قریب آجاؤ عمیر قریب چلا گیا اور کہا : تمہاری صبح اچھی ہو (یہ جاہلیت کا سلام تھا) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے ہمارا ” سلام “ سے اکرام کیا ہے جو کہ اہل جنت کا سلام ہے عمیر بولا : اللہ کی قسم اے محمد میں ابھی نیاہوں آپ نے فرمایا : اے عمیر کیوں آئے ہو ؟ وہ بولا : میں اس قیدی کو لینے آیا ہوں جو آپ کے قبضہ میں ہے اس کے متعلق احسان کرو آپ نے فرمایا : تم نے اپنے گلے میں ننگی تلوار کیوں لٹکا رکھی ہے ؟ وہ بولا : اللہ تعالیٰ تلواروں کا براکرے کیا تلوار بھی کسی چیز سے بےنیاز کرسکتی ہے فرمایا : تم نے سچ کہا بھلا آئے کیوں ہو ؟ جواب دیا : صرف اسی کام کے لیے آیا ہوں (جو ذخر کردیا ہے) ارشاد فرمایا : کیوں تم اور صفواب بن امیہ مقام حجر میں مشورہ کرنے نہیں بیٹھے تھے تم نے قلیب کنویں میں پڑے قریش کا ذکر کیا پھر تو نے کہا : مجھ پر قرضہ نہ ہوتا اور میرے عیال کی بات نہ ہوتی میں چل پڑتا حتیٰ کہ محمد کو قتل کردیتا چنانچہ مجھے قتل کرنے کی اجرت پر صفوان نے تمہارا اہل و عیال کو سنبھالنے کی ذمہ داری قبول کی حالانکہ اللہ تعالیٰ میرے اور تمہارے درمیان حائل ہے عمیربولا : میں گواہی دیتا ہوں آپ اللہ کے رسول ہیں یا رسول اللہ ! ہم آپ کی تکذیب کرچکے وجہ اس کی صرف اتنی تھی کہ آپ ہمارے پاس آسمان کی خبریں لاتے تھے اور وحی کی بات ہم تک پہنچاتے تھے : جب کہ یہ معاہدہ صرف میرے اور صفوان کے درمیان طے پایا تھا تیسرے شخص کو قطعا اس کا علم نہیں تھا مجھے یقین ہوگیا ہے کہ اس معاملہ کی خبر آپ کو صرف اور صرف میرے اور صفوان کے درمیان طے پایا تھا تیسرے کو قطعا اس کا علم نہیں تھا مجھے یقین ہوگیا ہے کہ اس معاملہ کی خبر آپ کو صرف اور صرف اللہ تعالیٰ نے کی ہے تمام تعریفیں اس ذات کے لیے ہیں جس نے مجھے اسلام کی ہدایت سے بہرہ مند کیا اور اس راستے پر چلایا پھر عمیر (رض) نے شہادت حق کا اقرار کیا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اپنے بھائی کو دین کی تعلیم دو اسے قرآن پڑھاؤ اور اس کا قیدی واگزار کرو صحابہ (رض) نے آپ کا حکم بجالایا پھر عمیر (رض) نے عرض کیا : یارسول اللہ ! میں نے اللہ تعالیٰ کے نور کو مٹانے کے لیے ازحد کوشش کی ہیں اور اللہ کے دین کا اقرار کرنے والوں کو سخت اذیتیں پہنچائی ہیں میں چاہتا ہوں کہ آپ مجھے مکہ واپس جانے کی اجازت دیں تاکہ میں اہل مکہ کو اسلام کی دعوت دوں شاید اللہ تعالیٰ انھیں راہ راست پر لے آئے ورنہ میں انھیں اسی طرح اذیتیں پہچاؤں گا جس طرح آپ کے ساتھیوں کو پہنچاتا رہا ہوں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عمیر (رض) کو اجازت دے دی چنانچہ وہ مکہ چلے گئے۔
جب عمیربن وہب (رض) صفوان کے پاس سے مدینہ کے لیے روانہ ہوئے تھے صفوان قریش سے کہتا تھا : واقعہ بدر کے نعم البدل سے خوش ہوجاؤ۔ صفوان ان دنوں مسافروں سے عمیر (رض) کے متعلق سوال کرتا حتیٰ کہ ایک مسافر آیا اس نے صفوان کو عمیر کے قبول اسلام کی خبردی صفوان نے قسم کھائی کہ عمیر (رض) سے بات نہیں کرے گا اور اسے کوئی نفع نہیں پہنچائے گا جب عمیر (رض) مکہ پہنچے لوگوں کو اسلام کی دعوت دی اور جو ان کی مخالفت کرتا اسے سخت اذیتیں دیتے چنانچہ ان کے ہاتھ پر بہت سے لوگوں نے اسلام قبول کیا۔ (رواہ اسحاق وابن جریر)

پڑھنے کی ترتیبات

Urdu

System

عربی فونٹ منتخب کریں

Kfgq Hafs

ترجمہ فونٹ منتخب کریں

Noori_nastaleeq

22
17

عام ترتیبات

عربی دکھائیں

ترجمہ دکھائیں

حوالہ دکھائیں

حدیث دو حصوں میں دیکھیں


صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔

Kanz al-Ummal

كنز العمال

Kanz al-Ummal

صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔