HADITH.One

Urdu

Support
hadith book logo

HADITH.One

Urdu

System

صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔
hadith book logo

Kanz al-Ummal

.

كنز العمال

37484

37474۔(مسند عمر) عن الحرمازي قال : كتب عمر بن الخطاب إلى فيروز الديلمي : أما بعد فقد بلغني أنه قد شغلك أكل اللباب بالعسل ، فإذا أتاك كتابي هذا فاقدم على بركة الله فاغز في سبيل الله ، فقدم فيروز فأستأذن على عمر ، فاذن له ، فزاحمه فتى من قريش ، فرفع فيروز يده فلطم أنف القرشي ، فدخل القرشي على عمر مستدميا ، فقال له عمر : ما فعل بك ؟ قال : فيروز وهو على الباب ، فأذن لفيروز بالدخول فدخل ، فقال : ما هذا يا فيروز ؟ قال : يا أمير المؤمنين ! إنا كنا حديث عهد بملك وإنك كتبت إلي ولم تكتب إليه وأذنت لي بالدخول ولم تأذن له ،فأراد أن يدخل في أذني قبلي فكان مني ما قد أخبرك ، قال عمر : القصاص : قال قيروز : لابد ، قال : لابد ، فجثى فيروز على ركبتيه وقام الفتى ليقتص منه ، فقال له عمر : على رسلك أيها الفتى حتى أخبرك بشئ سمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم ! سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم ذات غداة وهو يقول : قتل الليله الاسود العنسي الكذاب قتله العبد الصالح فيروز الديلمي ، أفترى مقتصا منه بعد إذ سمعت هذا من رسول الله صلى الله عليه وسلم ؟ قال الفتى : قد عفوت عنه بعد إذ أخبرتني عن رسول الله صلى الله عليه وسلم بهذا ، فقال فيروز لعمر : أفترى هذا مخرجي مما صنعت إقراري له وعفوت غير مستكره ؟ قال : نعم ، قال فيروز : فأشهدك أن سيفي وفرسي وثلاثين ألفا من مالي هبة له ، قال : عفوت مأجورا يا أخا قريش وأخذت مالا (كر).
٣٧٤٧٣۔۔۔” مسند عمر “ حرمازی کی روایت ہے کہ حضرت عمربن خطاب (رض) فیروز دیلمی (رض) کو خط لکھا جس کا مضمون یہ ہے : امابعد ! مجھے خبر پہنچی ہے کہ تم شہد کے ساتھ مغز کھانے میں مشغول رہتے ہو جو نہی میرا خط پہنچے فورا میرے پاس آجاؤ۔ چنانچہ فیروز (رض) حضرت عمر (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اجازت کی حضرت عمر (رض) نے اجازت دی لیکن اندر داخل ہونے میں قریش کے ایک نوجوان نے مزاحمت کردی فیروز (رض) نے ہاتھ اٹھا کر طمانچہ دے مارا قریشی حضرت عمر (رض) کے پاس خون آلودناک لیے داخل ہوا عمر (رض) نے پوچھا : یہ کس نے کیا : جواب دیا : فیروز دیلمی نے اور وہ دروازے پر کھڑے ہیں حضرت عمر (رض) نے فیروز (رض) کو داخل ہونے کی اجازت دی وہ اندر داخل ہوئے حضرت عمر (رض) نے پوچھا : اے فیروز یہ کیا معاملہ ہے ؟ جواب دیا : امیرالمومنین ! ہمارا بادشاہ کے ساتھ نیا نیا بارانہ ہے آپ نے مجھے خط لکھا مگر اسے خط نہیں لکھا مگر اسے خط نہیں لکھا آپ نے مجھے داخل ہونے کی اجازت دی اور اسے اجازت نہ دی وہ میری اجازت سے قبل داخل ہونا چاہتا تھا تو پھر مجھ سے وہ ہوا جس کی آپ کو خبر ہوئی۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : تم سے قصاص لیا جائے گا فیروز (رض) بولے : کیا اس کے سوا کوئی چارہ کا رہے۔ فرمایا اس کے سوا کوئی چارہ کار نہیں فیروز (رض) گھنٹوں کے بل بیٹھ گئے اور نوجوان قصاص لینے کھڑا ہوگیا حضرت عمر (رض) نے لڑکے سے کہا : اے نوجوان ذرہ ٹھہروتا کہ میں تمہیں ایک حدیث سناؤں جو میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنی ہے چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک صبح فرمایا : آج رات اسودعنسی کذاب قتل کردیا گیا ہے۔ اسے بندہ صالح فیروز دیلمی نے قتل کیا ہے۔ اے نوجوان یہ سن لینے کے بعد بھی تم اس شخص سے قصاص لینے کے لیے آمادہ ہو۔ نوجوان بولا : میں نے یہ سننے کے بعد اسے معاف کردیا فیروز (رض) نے حضرت عمر (رض) سے کہا : اس کے بعد میں اپنے صنیع سے باہر نکل گیا : فرمایا جی ہاں فیروز (رض) نے کہا : میں آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ میری تلوار گھوڑا اور میرے مال میں سے تیس ہزار اس نوجوان نے لیے ہبہ ہیں پھر بولے : اے قریشی ! تو نے معاف کرکے اجر وثواب حاصل کیا اور مال لیتا گیا۔ (رواہ ابن عساکر)

پڑھنے کی ترتیبات

Urdu

System

عربی فونٹ منتخب کریں

Kfgq Hafs

ترجمہ فونٹ منتخب کریں

Noori_nastaleeq

22
17

عام ترتیبات

عربی دکھائیں

ترجمہ دکھائیں

حوالہ دکھائیں

حدیث دو حصوں میں دیکھیں


صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔

Kanz al-Ummal

كنز العمال

Kanz al-Ummal

صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔