HADITH.One

Urdu

Support
hadith book logo

HADITH.One

Urdu

System

صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔
hadith book logo

Kanz al-Ummal

.

كنز العمال

37487

37477- عن محمد بن عمارة بن خزيمة بن ثابت قال: كان عمرو بن معد يكرب قال لقيس بن مكشوح المرادي حين انتهى إليهم أمر رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا قيس! أنت سيد قومك اليوم، وقد ذكر لنا أن رجلا من قريش يقول له "محمد" خرج بالحجاز يقول: إنه نبي فانطلق بنا إليه حتى نعلم علمه. فإن كان نبيا كما يقول فإنه لن يخفى علينا إذا لقيناه فاتبعناه، وإن كان غير ذلك علمنا علمه ، فانه إن سبق إليه رجل من قومك سادنا وترأس علينا وكنا له أذنابا ! فأبى عليه قيس وسفه رأيه ، فركب عمرو بن معد يكرب في عشرة من قومه حتى قدم المدينة فأسلم ، ثم انصرف إلى بلاده ، فلما بلغ قيس بن مكشوح خروج عمرو أوعد عمرا وتحطم وقال : خالفني وترك رأيي ، وجعل عمرو يقول : يا قيس ! قد خبرتك أنك تكون ذنبا تابعا لفروة بن مسيك ، وجعل فروة يطلب قيس ابن مكشوح كل الطلب حتى هرب من بلاده وأسلم بعد ذلك ، ولما ظهر العنسي خافه قيس على نفسه فجعل يأتيه ويسلم عليه ويرصد له في نفسه ما يريد ولا يبوح به إلى أحد حتى دخل عليه وقد وثق فيروز الديلمي عنقه وجعل وجهه في قفاه وقتله فجز قيس رأسه ورمى به إلى أصحابه ، ثم خاف من قوم العنسى فعدا على داذويه فقتله ليرضيهم بذلك ، وكان داذويه فيمن حضر قتل العنسي أيضا فكتب أبو بكر إلى المهاجر بن أبي أمية أن ابعث إلي بقيس في وثاق ، فبعث به إليه فكلمه عمر في قتله وقال ، اقتله بالرجل الصالح يعني داذويه فان هذا لص عاد ، فجعل قيس يحلف ما قتله ، فأحلفه أبو بكر خمسين يمينا عند منبر رسول الله صلى الله عليه وسلم : ما قتلته ولا أعلم له قاتلا ، ثم عفا عنه ، وكان عمر يقول : لولا ما كان من عفو أبي بكر لقتلتك بداذويه ، فيقول قيس : يا أمير المؤمنين ! قد والله أشعرتني ! ما يسمع هذا منك أحد إلا اجترأ علي وأنا براء من قتله ، فكان عمر يكف بعد عن ذكره ويأمر إذا بعثه في الجيوش أن يشاور ولا يجعل إليه عقد أمر ويقول : إن له علما بالحرب وهو غير مأمون (ابن سعد).
٣٧٤٧٦۔۔۔ محمد بن عمارہ بن خزیمہ بن ثابت کی روایت ہے کہ حضرت عمروبن معدیکرب (رض) نے قیس بن مکشوح سے کہا : اے قیس تم اپنی قوم کے آج سردار ہوشنید ہے کہ قریش کا ایک شخص ” جیسے محمد کہا جاتا ہے “ حجاز میں اس کا ظہور ہوا ہے وہ کہتا ہے کہ میں سنی ہوں لہٰذا ہمارے ساتھ اس کے پاس چلو تاکہ ہم اس کے علم کا جائزہ ہیں ، اگرچہ وہ واقعۃ نبی ہے جیسا کہ اس کا دعوی ہے تو حقیقت حال ہمارے اوپر مخفی نہیں رہے گی جب ہم اس سے ملاقات کریں گے سب کچھ واضح ہوجائے گا اور ہم اس کی پیروی کرلیں گے اگر معاملہ اس کے خلاف ہوتب بھی ہم اس کے علم کا جائزہ لے لیں گے اگر تمہاری قوم کا کوئی شخص اس تک رائے کو نامعقول سمجھا۔ چنانچہ حضرت عمروبن معدیکرب (رض) اپنی قوم کے دس آدمیوں کے ساتھ مدینہ حاضر ہوئے اور اسلام قبول کرکے اپنے وطن واپس چلے گئے جب قیس بن مکثوح (رض) کو حضرت عمرو (رض) کے مدینہ کی طرف روانہ ہونے کی خبر ہوئی تو قیس (رض) نے انھیں دھمکی دی اور کہا : اس نے میری مخالفت کی ہے اور میری رائے کی مطلق پاسداری نہیں کی۔ جب کہ حضرت عمرو (رض) کہتے جارہے تھے : اے قیس میں نے تجھے خبردی ہے کہ فروہ بن مسیک کی تابع فرمان دم ہے فروہ نے قیس بن مکشوح کی تلاش شروع کردی بالاخر قیس بن مکشوح اپنے ملک سے بھاگ سے بھاگ نکلا اور اس کے بعد اسلام قبول کرلیا۔ جب اسود عنسی نے نبی ہونے کا دعویٰ کیا تو قیس اس سے خوفزدہ ہو کر اس کے پاس آنے لگا اسے سلام کرتا اور اس کی گھات میں لگارہتا اور اس کا اظہار کسی سے نہ کرتا۔ حتیٰ کہ ایک دن عنسی کے پاس داخل ہوا دراں حالیکہ فیروز دیلمی (رض) نے اس کی گردن میں چادر ڈال رکھی تھی اور اس کا چہرہ گردن کی طرف موڑ رکھا تھا بالآخر اسے قتل کردیا اور قیس نے اس کا سرکاٹ کر اس کے حمایتیوں کی طرف پھینک دیا پھر قیس عنسی کی قوم سے خوفزدہ ہوا اور داذویہ پر حملہ کرکے اسے قتل کردیا تاکہ عنسی کی قوم کو خوش کردے داذویہ ان لوگوں میں سے تھا جو عنسی کے قتل میں شامل تھے جب ابوبکر (رض) کو اس کی خبر ہوئی تو انھوں نے مہاجرین ابی امیہ کو خط لکھا کہ قیس کو بیریوں میں جکڑ کر میرے پاس بھیج دو چنانچہ اسے بھیج دیا حضرت عمر (رض) نے اس کے قتل کے متعلق بات کی اور فرمایا : میں اسے بندہ صالح یعنی داذویہ کے بدلہ میں قتل کروں گا یہ تو سرکش چور ہے قیس نے قسمیں اٹھانی شروع کردیں میں نے اسے قتل نہیں کیا ابوبکر (رض) نے قیس سے منبر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس پچاس قسمیں لیں کہ میں نے اسے قتل کیا اور نہ ہی اس کے قاتل کا مجھے علم ہے پھر ابوبکر (رض) نے اسے معاف کردیا حضرت عمر (رض) اس سے فرمایا کرتے اگر ابوبکر (رض) نے تجھے معاف نہ کیا ہوتا میں تجھے داذیہ کے بدلہ میں قتل کردیتا قیس جواب دیتا امیرالمومنین ! اللہ کی قسم آپ نے مجھے پہچان لیا تھا جو شخص بھی یہ بات آپ کے منہ سے سنے گا وہ مجھ پر جرات کرے گا اور مجھے قتل کردے گا حالانکہ میں اس کے قتل سے بری ہوں۔ عمر (رض) اس کے بعد اس کے ذکر سے باز رہتے تھے عمر (رض) جب اپنے لشکروں کو بھجتے تھے تو قیس سے مشورہ لیتے اور اسے کوئی سرکاری عہدہ سونپتے تھے اور فرماتے تھے ! یہ فنون حرب کا ماہر ہے لیکن امانتدار ہیں۔ (رواہ ابن سعد)

پڑھنے کی ترتیبات

Urdu

System

عربی فونٹ منتخب کریں

Kfgq Hafs

ترجمہ فونٹ منتخب کریں

Noori_nastaleeq

22
17

عام ترتیبات

عربی دکھائیں

ترجمہ دکھائیں

حوالہ دکھائیں

حدیث دو حصوں میں دیکھیں


صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔

Kanz al-Ummal

كنز العمال

Kanz al-Ummal

صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔