HADITH.One

Urdu

Support
hadith book logo

HADITH.One

Urdu

System

صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔
hadith book logo

Kanz al-Ummal

.

كنز العمال

37854

37841- "مسند عمر" عن منصور بن الحميد الضبي عن سالم ابن عبد الله بن عمر قال: جاؤا بأسير إلى الحجاج فقال الحجاج: قم يا سالم فاضرب عنق الأسير! فسل سيفه فأتاه فقالوا لأبيه عبد الله: إن ابنك ذهب ليضرب عنق الأسير! قال: ما كان ليفعل، قالوا: إنه قد سل سيفه فأتاه، فقال: ما كان ليفعل، فأتاه فقال: يا هذا! توضأت الغداة وضوءا حسنا وصليت في الجماعة؟ قال: نعم، فغمد سيفه ورجع، فقال الحجاج: ما منعك أن تضرب الأسير؟ قال: ما سمعت من والدي يحدث عن عمر عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "أيما رجل توضأ صلاة الغداة وضوءا حسنا وصلى في الجماعة كان في جوار الله". ما كنت لأقتل جار الله يا حجاج! قال أبوه ما أخطأت أمه حين سمته سالما" ابن النجار"
٣٧٨٤١۔۔۔ (مسند عمر (رض)) منصور بن الحمید الضبی حضرت سالم بن عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت کرتے ہیں، حضرت سالم (رح) نے فرمایا : ایک قیدی کو حجاج کے روبروپیش کیا گیا۔ حجاج نے (حاضرین میں سے) حضرت سالم کو فرمایا : اے سالم ! اٹھ اور اس قیدی کی گردن اڑا۔ حضرت سالم نے اپنی تلوار سونت لی اور قیدی کے پاس آئے۔ لوگوں نے ان کے والد حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کو کہا : آپ کا بیٹا ایک قیدی کی گردن اڑانے گیا ہے۔ حضرت ابن عمر (رض) نے فرمایا : نہیں وہ ایسا نہیں کرسکتا۔ لوگوں نے کہا : اس نے تلوار بھی سونت لی ہے اور اس کی طرف چل پڑا ہے آپ (رض) نے فرمایا : نہیں وہ ایسا نہیں کرسکتا۔ چنانچہ حضرت سالم بن عبداللہ اس قیدی کے پاس تشریف لائے اور فرمایا : اے شخص ! کیا تو نے صبح کو اچھی طرح وضو کیا تھا اور نماز جماعت کے ساتھ ادا کی تھی ؟ اس نے عرض کیا : جی ہاں، چنانچہ حضرت سالم نے اپنی تلوار نیام میں کرلی اور واپس لوٹ گئے۔
حجاج نے پوچھا : آپ کو کس چیز نے روکا کہ آپ قیدی کی گردن مارتے ؟ حضرت سالم رحمۃ اللہ نے جواب دیا : اس بات نے جو میں اپنے والد سے سنی ہے وہ اپنے والد حضرت عمر (رض) سے اور وہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل کر کے بیان کرتے ہیں کہ :
جس شخص نے صبح کی نماز کے لیے اچھی طرح وضو کیا اور پھر جماعت کے ساتھ نماز ادا کی تو وہ اللہ تعالیٰ کے پڑوس میں آجاتا ہے۔
پھر حضرت سالم (رح) نے فرمایا : لہٰذا میں ایسے شخص کو قتل نہیں کرسکتا جو اللہ کا پڑوسی ہو اے حجاج !
ان کے والد نے کہا : اس کی ماں نے اس کا سالم نام رکھ کر غلطی نہیں کی (جس کا معنی ہے محفوظ) ۔ ابن النھار)
فائدہ :۔۔۔ سالم بن عبداللہ بن عمر (رض)۔ یہ مدینے کے بڑے فقہاء میں سے ہیں۔
امیر المومنین حضرت عمر (رض) کے پوتے ہیں۔ امام احمد بن حنبل (رح) فرماتے ہیں اصح ترین سند الزھری عن سالم عن ابیہ کی ہے۔ ابن سعد فرماتے ہیں :
یہ ثقہ اور کثیر الحدیث تھے، لوگوں میں بلند ترین رتبہ والے تھے۔ ١٠٦ ھ میں وفات پائی۔ (تھذیب لابن حج ٣/ ٤٥٨)

پڑھنے کی ترتیبات

Urdu

System

عربی فونٹ منتخب کریں

Kfgq Hafs

ترجمہ فونٹ منتخب کریں

Noori_nastaleeq

22
17

عام ترتیبات

عربی دکھائیں

ترجمہ دکھائیں

حوالہ دکھائیں

حدیث دو حصوں میں دیکھیں


صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔

Kanz al-Ummal

كنز العمال

Kanz al-Ummal

صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔
Kanz al-Ummal: 37854 | undefined - Hadith.one