HADITH.One

Urdu

Support
hadith book logo

HADITH.One

Urdu

System

صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔
hadith book logo

Kanz al-Ummal

.

كنز العمال

37951

37939- عن أبي سعيد قال: لما قسم رسول الله صلى الله عليه وسلم السبى بالجعرانة أعطى عطايا قريش وغيرها من العرب ولم يكن في الأنصار منها شيء فكثرت المقالة وفشت حتى قال قائلهم: أما رسول الله لقد لقى قومه، فأرسل إلى سعد بن عبادة فقال: "ما مقالة بلغتني عن قومك أكثروا فيها؟ " فقال له سعد: فقد كان ما بلغك، قال "فأين أنت من ذاك؟ " قال: ما أنا إلا رجل من قومي، فاشتد غضبه وقال: "اجمع قومك ولا يكن معهم غيرهم،" فجمعهم في حظيرة من حظائر السبي وقام على بابها وجعل لا يترك إلا من كان من قومه وقد ترك رجالا من المهاجرين ورد أناسا، ثم جاء النبي صلى الله عليه وسلم يعرف في وجهه الغضب فقال: "يا معشر الأنصار! ألم أجدكم ضلالا فهداكم الله؟ " فجعلوا يقولون: نعوذ بالله من غضب الله ومن غضب رسوله "يا معشر الأنصار ألم أجدكم عالة فأغناكم الله" فجعلوا يقولون: نعوذ بالله من غضب الله ومن غضب رسوله! قال: "ألا تجيبون؟ " قالوا: الله ورسوله أمن وأفضل، فلما سري عنه قال: "ولو شئتم لقلتم فصدقتم: ألم نجدك طريدا فأويناك ومكذبا فصدقناك وعائلا فآسيناك ومخذولا فنصرناك؟ " فجعلوا يبكون ويقولون: الله ورسوله أمن وأفضل، ثم قال: "أوجدتم من شيء من دنيا أعطيتها قوما أتألفهم على الإسلام ووكلتكم إلى إسلامكم؟ لو سلك الناس واديا أو شعبا لسلكت واديكم وشعبكم، أنتم شعار والناس دثار، ولولا الهجرة لكنت امرأ من الأنصار، ثم رفع يديه حتى إني لأرى ما تحت منكبيه فقال: اللهم اغفر للأنصار ولأبناء الأنصار ولأبناء أبناء الأنصار! أما ترضون أن يذهب الناس بالشاء والبعير وتذهبون برسول الله صلى الله عليه وسلم إلى بيوتكم؟ " فبكى القوم حتى اخضلوا1 لحاهم وانصرفوا وهم يقولون رضينا بالله وبرسوله حظا ونصيبا. "ش"
٣٧٩٣٩۔۔۔ حضرت ابوسعید (رض) سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مقام جعرانہ میں قیدیوں وغیرہ کو تقسیم کیا تو قریش وغیرہ عرب کے لوگوں کو عطیے عطاکئے، جن میں سے انصار کو کچھ نہ ملا۔ جس کی وجہ سے چہ میگوئیاں بڑھ گئیں اور طرح طرح کی باتیں پھیلنے لگیں حتی کہ ان میں سے ایک نے یہ تک کہا : حاصل کلام رسول اللہ اپنی قوم والوں سے جاملے ہیں۔ حضور پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سعد بن عبادۃ کو (جو انصار کے سردار تھے) پیغام بھیج کر بلوایا اور پوچھا : یہ کیا باتیں ہیں جو مجھے تمہاری قوم کی طرف سے پہنچ رہی ہیں اور بہت زیادہ پھیل گئی ہیں ؟ حضرت سعد (رض) نے عرض کیا : جو باتیں آپ کو پہنچی ہیں واقعۃً ہورہی ہیں۔ حضور پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : اور ان باتوں میں تمہارا کیا کردار ہے ؟ انھوں نے عرض کیا : میں بھی اپنی قوم ہی کا ایک فرد ہوں۔ یہ سن کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا غصہ بڑھ گیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم اپنی قوم کے لوگوں کو جمع کرو اور ان کے علاوہ کوئی اور آدمی نہ ہو۔ چنانچہ حضرت سعد نے قیدیوں کے میدانوں میں سے ایک میدان میں اپنی انصار قوم کے لوگوں کو اکٹھا کیا اور خود وہاں دروازے پر کھڑے ہوگئے اور صرف اپنی قوم کے لوگوں کو چھوٹے تھے صرف مہاجرین کے کچھ لوگوں کو چھوڑا تھا اور (اکثر) لوگوں کو واپس کردیا تھا۔ پھر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے غصہ آپ کے چہرہ مبارک پر عیاں تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا :
اے جماعت انصار ! کیا میں نے تم کو گمراہ نہیں پایا تھا پھر تم کو اللہ نے ہدایت بخش دی ؟ انصار کہنے لگے : ہم اللہ کی پناہ مانگتے ہیں اللہ کے غصے اور اس کے رسول کے غصے سے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پھر فرمایا : اے انصار کی جماعت ! کیا میں نے تم کو تنگدست نہیں پایا تھا پھر اللہ نے تم کو غنی و مالدار کردیا ؟ انصار پھر بولے : ہم اللہ کی پناہ مانگتے ہیں اللہ اور اس کے رسول کے غصے سے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم لوگ جواب کیوں نہیں دیتے ؟ انصار بولے : اللہ اور اس کے رسول کے اس سے زیادہ ہم پر احسانات اور فضل ہیں۔ چنانچہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا غصہ کافور ہوگیا تو آپ نے فرمایا : اگر تم چاہو تو یوں کہہ سکتے ہو اور اسی میں کچھ جھوٹ نہ ہوگا : کہ ہم نے آپ کو دھتکارا ہوا پایا تھا پھر ہم نے آپ کو ٹھکانا دیا اور دوسرے لوگوں نے آپ کو جھٹلادیا تھا لیکن ہم آپ کی تصدیق کی اور آپ تنگدست تھے ہم نے آپ کی غمخواری کی، آپ رسوا ہوچکے تھے ہم نے آپ کی مدد کی۔ یہ سن کر انصار روپڑے اور کہنے لگے : اللہ اور اس کے رسول کے ہم پر بہت احسانات اور انعامات ہیں۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : کیا تم دنیا کا مال دیکھتے ہو جو میں کسی قوم کو دے کر ان کو اسلام کے لیے نرم کرنا چاہتا ہوں جب کہ تم کو اسلام کے حوالہ کرتا ہوں۔ اگر یہ سارے لوگ ایک وادی یا گھاٹی میں چل پڑیں تو میں تمہاری وادی اور گھاٹی میں ہی چلوں گا۔ تم میرے لیے دن بدن سے ملے ہوئے کپڑے ہو اور لوگ اوپر کا (زائد) لباس ہیں۔ اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصارہی میں سے ہوتا۔
پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے حتی کہ میں آپ کی کہنیوں کے نیچے والا حصہ دیکھ رہا تھا پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دعا کی !
اللھم اغفر للانصار ولابناء الانصار والابناء ابناء الانصار۔
اے اللہ ! انصار کی مغفرت فرما اور انصار کے بیٹوں کی مغفرت فرما اور انصار کے بیٹوں کے بیٹوں کی مغفرت فرما۔
پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے انصار کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ اور لوگ تو بکریاں اور اونٹ اپنے ساتھ لے کر جائیں اور تم اللہ کے رسول کو اپنے ساتھ اپنے گھروں کو لے جاؤ۔ یہ سن کر انصار رو پڑے حتی کہ ان کی داڑھیاں تر ہوگئیں اور پھر وہ یہ کہتے ہوئے لوٹے رضینا باللہ رباً وبرسولہ حظاً ونصیباً ۔
ہم اللہ کے رب ہونے پر راضی ہیں اور رسول ہمارے حصے میں آئے ہم اس پر راضی اور خوش ہیں (مصنف ابن ابی شیبہ)

پڑھنے کی ترتیبات

Urdu

System

عربی فونٹ منتخب کریں

Kfgq Hafs

ترجمہ فونٹ منتخب کریں

Noori_nastaleeq

22
17

عام ترتیبات

عربی دکھائیں

ترجمہ دکھائیں

حوالہ دکھائیں

حدیث دو حصوں میں دیکھیں


صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔

Kanz al-Ummal

كنز العمال

Kanz al-Ummal

صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔