HADITH.One

Urdu

Support
hadith book logo

HADITH.One

Urdu

System

صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔
hadith book logo

Kanz al-Ummal

.

كنز العمال

37969

37957- عن عمر قال: كتب حاطب بن أبي بلتعة إلى أهل مكة بكتاب فاطلع الله عليه نبيه، فبعث عليا والزبير في أثر الكتاب، فأدركا المرأة على بعير فاستخرجاه من قرونها فأتيا به النبي صلى الله عليه وسلم، فأرسل إلى حاطب فقال: "يا حاطب! أنت كتبت هذا الكتاب؟ " قال: نعم، قال: "فما حملك على ذلك؟ " قال: يا رسول الله! أما والله إني لناصح لله ولرسوله! ولكن كنت غريبا في أهل مكة وكان أهلي فيهم فخشيت أن يضرموا عليهم، فقلت أكتب كتابا لا يضر الله ولا رسوله شيئا وعسى أن يكون منفعة لأهلي، فاخترطت سيفي ثم قلت: أضرب عنقه يا رسول الله؟ لقد كفر قال: "وما يدريك يا ابن الخطاب أن يكون اطلع الله على هذه العصابة من أهل بدر فقال: اعملوا ما شئتم فقد غفرت لكم". "البزار وابن جرير، ع والشاشي، طس، ك وابن مردويه، ض، وذكر البرقاني أن م أخرجه في بعض نسخه".
٣٧٩٥٧۔۔۔ حضرت عمر (رض) سے مروی ہے، فرماتے ہیں : حاطب بن ابی بلتعہ (بدری صحابی (رض)) نے اہل مکہ کو خط لکھا۔ جس کی اللہ پاک نے اپنے نبی کو اطلاع دے دی۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی اور حضرت زبیر (رض) کو اس خط کو لانے کے لیے بھیجا۔ دونوں نے قاصد عورت کو ایک اونٹ پر پالیا اور اس کے بالوں سے خط کو برآمد کیا اور وہ خط لے کر حضور نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں اس خط کو لے کر حاضر ہوئے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حاطب بن ابی بلتعہ (رض) کو پیغام بھیج کر بلوایا اور فرمایا : اے حاطب ! کیا تو نے یہ خط (ان کو) لکھا ہے ؟ انھوں نے عرض کیا : جی ہاں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا :
کس بات نے تجھے اس پر مجبور کیا ؟ جواب دیا : یارسول اللہ ! اللہ کی قسم ! میں اللہ اور اس کے رسول کا خیر خواہ ہوں، مگر بات یہ ہے کہ اہل مکہ میں میں کمزور آدمی ہوں اور میرے بال بچے وہیں ان میں رہتے ہیں۔
مجھے اس بات کا ڈر ہوا کہ کہیں وہ ان پر آگ نہ بھڑکائیں تو میں نے سوچا میں ان کو ایسا خط لکھتا ہوں جس سے اللہ اور اس کے رسول کا بھی کچھ نقصان نہ ہو اور شاید میرے گھروالوں کو اس کا کچھ فائدہ پہنچ جائے۔
حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں : میں نے اپنی تلوار کھینچ کر عرض کیا : یارسول اللہ !
میں اس کی گردن نہ اڑادوں ؟ اس نے کفر کیا ہے۔ حضور پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تجھے کیا معلوم اے ابن الخطاب ! شاید اللہ پاک اہل بدر سے مخاطب ہوا ہو اور فرمایا ہو : تم جو چاہے کرو میں نے تمہاری بخشش کردی ہے۔ (البزار، ابن جریر، مسند ابی یعلی، الشاشی، الاوسط للطبرانی، مستدرک الحاکم، ابن مردویہ، الضیاء للمقدسی، البرقانی فرماتے ہیں صحیح مسلم کے
بعض نسخوں میں اس کی تخریج آئی ہے۔ )

پڑھنے کی ترتیبات

Urdu

System

عربی فونٹ منتخب کریں

Kfgq Hafs

ترجمہ فونٹ منتخب کریں

Noori_nastaleeq

22
17

عام ترتیبات

عربی دکھائیں

ترجمہ دکھائیں

حوالہ دکھائیں

حدیث دو حصوں میں دیکھیں


صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔

Kanz al-Ummal

كنز العمال

Kanz al-Ummal

صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔
Kanz al-Ummal: 37969 | undefined - Hadith.one