HADITH.One

Urdu

Support
hadith book logo

HADITH.One

Urdu

System

صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔
hadith book logo

Kanz al-Ummal

.

كنز العمال

38129

38117- عن عبد الله بن زرير الغافقي قال: سمعت علي بن أبي طالب وهو يحدث حديث زمزم قال: بينا عبد المطلب نائم في الحجر أتي فقيل له: احفر برة، فقال: وما برة؟ ثم ذهب عنه، حتى إذا كان الغد نام في مضجعه ذلك إذا كان الغد عاد فنام في مضجعه فأتى فقيل له: احفر المصونة، قال: وما المصونة، ثم ذهب عنه، حتى إذا كان الغد عاد فنام في مضجعه ذلك فأتى فقيل له: احفر طيبة، فقال: وما طيبة؟ ثم ذهب عنه، فلما كان الغد عاد لمضجعه فنام فيه فأتى فقيل له: احفر زمزم، فقال: وما زمزم؟ فقال: لا تنزف ولا تذم، ثم نعت له موضعها، فقام يحفر حتى نعت له، فقالت له قريش: ما هذا يا عبد المطلب؟ فقال: أمرت بحفر زمزم فلما كشف عنه وبصروا بالطي قالوا: يا عبد المطلب! إن لنا حقا فيها معك! إنها لسر أبينا إسماعيل، فقال: ما هي لكم، لقد خصصت بها دونكم، قالوا: تحاكمنا؟ قال: نعم، قالوا: بيننا وبينك كاهنة بني سعد بن هذيم، وكانت بأشراف الشام، فركب عبد المطلب في نفر من بني أمية، وركب من كل بطن من أفناء قريش نفر، وكانت الأرض إذ ذاك مفاوز فيما بين الحجاز والشام، حتى إذا كانوا بمفازة من تلك البلاد فني ماء عبد المطلب وأصحابه حتى أيقنوا بالهلكة، ثم اسقوا القوم، فقالوا: ما نستطيع أن نسقيكم وإنا نخاف مثل الذي أصابكم، فقال عبد المطلب لأصحابه: ماذا ترون؟ قالوا ما رأينا إلا تبع لرأيك، قال: فإني أرى أن يحفر كل رجل منكم حفرته، فكلما مات رجل منكم دفعه أصحابه في حفرته حتى يكون آخركم يدفعه صاحبه، فضيعة رجل أهون من ضيعة جميعكم ففعلوا، ثم قال: والله! إن ألقانا بأيدينا للموت ولا نضرب في الأرض ونبتغي لعل الله عز وجل أن يسقينا لعجز فقال لأصحابه: ارتحلوا، فارتحلوا وارتحل، فلما جلس على ناقته فانبعثت به انفجرت عين تحت خفها بماء عذب، فأناخ وأناخ أصحابه، فشربوا واستقوا وأسقوا، ثم دعوا أصحابه: هلموا إلى الماء فقد سقانا الله، فجاؤا واستقوا وسقوا، ثم قالوا: يا عبد المطلب! قد والله قضى لك! إن الذي سقاك الماء بهذه الفلاة لهو الذي سقاك زمزم، انطلق فهي لك فما نحن بمخاصميك."ابن إسحاق في المبتدأ والأزرقي، ق في الدلائل".
٣٨١١٧۔۔۔ عبداللہ بن زریر غافقی سے روایت ہے فرمایا : میں نے حضرت علی بن ابی طالب (رض) کو زمزم کی حدیث بیان کرتے سنا فرمایا : ایک دفعہ عبدالمطلب حجر میں سوئے تھے انھوں نے خواب میں دیکھا کوئی ان سے کہہ رہا ہے : برہ کو کھودو ! انھوں نے کہا : برہ کیا ؟ پھر خواب ختم ہوگیا، یہاں تک کہ جب اگلا دن ہوا آپ اپنی اسی جگہ سوئے تو پھر خواب میں ان سے کوئی کہہ رہا ہے، مصونہ کو کھودو ! انھوں نے کہا : مصونہ کیا ہے ؟ پھر خواب ختم ہوگیا، پھر جب اگلا دن ہوا تو آپ نے اپنی اسی جگہ سوئے تو خواب میں کوئی ان سے کہہ رہا ہے طیبہ کو کھودو ! انھوں نے کہا : طیبہ کیا ہے ؟ پھر ختم ہوگیا، جب اگلا دن ہوا تو آپ اپنی اسی جگہ آئے اور سوگئے خواب میں کوئی دن سے کہہ رہا : زمزم کھودو ! انھوں نے کہا : زمزم کیا ہے ؟ اس نے کہا : جو نہ خشک ہوگا اور نہ اس کی مذمت ہوگی، پھر اس نے اس کی جگہ بتائی، آپ اٹھے اور کھودنے لگے یہاں تک کہ اس کا سراغ لگالیا، قریش کہنے لگے : عبدالمطلب یہ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : زمزم کھودنے کا حکم دیا گیا، جب وہ ظاہر ہوگیا اور لوگوں نے اسے مقام طتی میں اسی دیکھ لیا تو کہنے لگے : عبدالمطلب ! اس میں تمہارے ساتھ ہمارا حق بھی ہے، یہ ہمارے باپ اسماعیل کا راز ہے، آپ نے فرمایا : یہ تمہارے لیے کیسے ہے ؟ مجھے تم سے علیحدہ اس کے ساتھ خصوصیت دی گئی ہے، وہ کہنے لگے : ہم تمہارے ساتھ مقدمہ لڑیں گے ؟ آپ نے فرمایا : ٹھیک ہے : وہ کہنے لگے : ہمارے اور تمہارے درمین بنی سعد بن ھذیم کی کاہن عورت حاکم ہوگئی، جو شام کے بالائی حصہ میں رہتی ہے عبدالمطلب بنی امیہ کے کچھ لوگوں کے ہمراہ چل پڑے ، اور قریش کے ہر قبیلہ سے کچھ لوگ روانہ ہوئے، اس وقت حجازوشام کے درمیان والی زمین بےآب وگیارہ تھی چلتے چلتے یہ لوگ ان علاقوں کے کسی میدان میں پہنچے تو عبدالمطلب اور ان کے ساتھیوں کا پانی ختم ہوگیا اور انھوں نے مرنے کا یقین کرلیا، پھر لوگوں سے پانی مانگا، وہ کہنے لگے : ہم تم لوگوں کو پانی نہیں سے سکتے، ہمیں بھی تمہارے مصیبت کا ڈر ہے۔
عبدالمطلب نے اپنے ساتھیوں سے کہا : تمہاری کیا رائے ہے ؟ انھوں نے کہا : ہماری رائے آپ کی رائے کے تابع ہے، آپ نے کہا : میری رائے تو یہ ہے کہ تم میں سے ہر شخص اپنی قبر کھودلے، جب بھی تم میں سے کوئی مرجائے گا تو اسے اس کے ساتھ دفن کردیں گے یہاں تک کہ آخری شخص کو اس کا ساتھی دفن کردے گا، تو ایک آدمی کا نقصان تم سب کے نقصان سے کم ہے، چنانچہ انھوں نے ایسا ہی کیا، پھر فرمایا : اللہ کی قسم ! ہم نے اپنے تئیں ہلاکت میں ڈالا ہے اب ہم سفر نہیں کریں گے، ہم یہیں (پانی) تلاش کریں گے شاید اللہ تعالیٰ ہمیں عاجزی کی وجہ سے سیراب کردے آپ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا : چلو ! وہ اور آپ چل پڑے، جب آپ اپنی اونٹنی پر بیٹھے اور وہ آپ کو لے کر اٹھی تو اس کے پیر کے نیچے سے ایک چشمہ پھوٹ پڑا، جس کا پانی میٹھا تھا، آپ نے اپنی اونٹنی بٹھادی آپ کی ساتھیوں نے بھی اپنی اونٹیاں بیٹھا دیں، پانی پیا اور خوب سیراب ہوگئے، پھر (سفر کے ) ساتھیوں کو بلایا، آؤ پانی پی لو، اللہ تعالیٰ نے ہمیں پانی دیا ہے، چنانچہ وہ آئے اور خود بھی پیا اور جانوروں کو سیراب کیا، پھر (خود ہی) کہنے لگے : عبدالمطلب ! اللہ کی قسم ! تمہارے حق میں فیصلہ ہوگیا جس ذات نے تمہیں اس صحرا میں پانی دیا ہے اسی نے تمہیں زمزم سے سیراب کیا ہے، چلو وہ چشمہ تمہارا ہی ہے ہم تم سے نہیں جھگڑیں گے۔ (ابن اسحاق فی المبتداء والازرقی، بیھقی فی الدلائل)

پڑھنے کی ترتیبات

Urdu

System

عربی فونٹ منتخب کریں

Kfgq Hafs

ترجمہ فونٹ منتخب کریں

Noori_nastaleeq

22
17

عام ترتیبات

عربی دکھائیں

ترجمہ دکھائیں

حوالہ دکھائیں

حدیث دو حصوں میں دیکھیں


صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔

Kanz al-Ummal

كنز العمال

Kanz al-Ummal

صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔
Kanz al-Ummal: 38129 | undefined - Hadith.one