HADITH.One

Urdu

Support
hadith book logo

HADITH.One

Urdu

System

صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔
hadith book logo

Kanz al-Ummal

.

كنز العمال

4237

4237 - عن علي قال سألت النبي صلى الله عليه وسلم عن قول الله: {فَتَلَقَّى آدَمُ مِنْ رَبِّهِ كَلِمَاتٍ} فقال: "إن الله أهبط آدم بالهند، وحواء بجدة وإبليس بميسان، والحية بأصبهان، وكان للحية قوائم كقوائم البعير ومكث آدم بالهند مائة سنة باكيا على خطيئته، حتى بعث الله تعالى إليه جبريل وقال: يا آدم ألم أخلقك بيدي؟ ألم أنفخ فيك من روحي؟ ألم أسجد لك ملائكتي؟ ألم أزوجك حواء أمتي؟ قال بلى، قال: فما هذا البكاء؟ قال: وما يمنعني من البكاء وقد أخرجت من جوار الرحمن، قال فعليك بهذه الكلمات، فإن الله قابل توبتك وغافر ذنبك قل: اللهم إني أسألك بحق محمد وآل محمد، سبحانك، لا إله إلا أنت، عملت سوءا وظلمت نفسي فتب علي إنك أنت التواب الرحيم، اللهم إني أسألك بحق محمد وآل محمد عملت سوءا وظلمت نفسي فتب علي إنك أنت التواب الرحيم، فهؤلاء الكلمات التي تلقى آدم". "الديلمي" وسنده واه وفيه حماد بن عمر النصيبي عن السري عن خالد واهيان.
4237: فتلی آدم من ربہ کلمات۔
پھر آدم نے اپنے رب (کی طرف) سے (چند) کلمات پائے۔ (جن سے ان کی توبہ قبول ہوئی) سوال کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ نے آدم (علیہ السلام) کو ہند میں اتارا، حواء کو جدہ میں اتارا، ابلیس کو میسان میں اتارا اور سانپ کو اصفہان میں۔ اس وقت سانپ کے اونٹ کی مانند چارپائے ہوتے تھے۔ آدم (علیہ السلام) ہند میں سو سال تک اپنے گناہ پر روتے رہے۔ پھر اللہ پاک نے ان کی طرف جبرائیل (علیہ السلام) کو بھیجا اور ارشاد فرمایا :
اے آدم ! کیا میں تجھے اپنے ہاتھ سے پیدا نہیں کیا ؟ کیا میں نے خود تجھ میں روح نہیں پھونکی ؟ کیا میں نے ملائکہ سے تجھے سجدہ کرا کے عظمت نہیں بخشی ؟ کیا اپنی امت میں سے حواء کے ساتھ تیری شادی نہیں کی ؟ حضرت آدم (علیہ السلام) نے عرض کیا : ضرور ! کیوں نہیں۔ فرمایا : پھر یہ رونا کیسا ہے ؟ عرض کیا : میں کیوں نہ روؤں جبکہ مجھے رحمن کے پڑوس سے نکال دیا گیا، فرمایا : تم ان کلمات کو لازم پکڑ لو۔ اللہ پاک تمہاری توبہ قبول فرما لیں گے اور تمہارے گناہ کو بخش دیں گے :
اللہم انی اسالک بحق محمد و آل محمد، سبحانک، لا الہ الا انت عملت سوءا و ظلمت نفسی فتب علی انک انت التواب الرحیم اللہم انی اسالک بحق محمد وآل محمد عملت سوءا وظلمت نفسی فتب علی انک انت التواب الرحیم۔
اے اللہ ! میں تجھ سے محمد اور آل محمد کے حق کے ساتھ سوال کرتا ہوں، تو پاک ذات ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ مجھ سے برا عمل ہوا اور اپنی جان پر ظلم ہوا، پس میری توبہ قبول فرما، بیشک تو توبہ قبول فرمانے والا مہربان ہے۔
پھر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ کلمات آدم نے اپنے رب سے پائے تھے۔ رواہ الدیلمی۔
کلام : روایت موضوع ہے۔ اس کی سند بےکار ہے جس میں ایک راوی حمادبن عمر النصی ہے جو عن السری عن خالد کے طریق سے روایت کرتا ہے۔ یہ دونوں راوی بالکل واہی اور غیر معتبر ہیں۔

پڑھنے کی ترتیبات

Urdu

System

عربی فونٹ منتخب کریں

Kfgq Hafs

ترجمہ فونٹ منتخب کریں

Noori_nastaleeq

22
17

عام ترتیبات

عربی دکھائیں

ترجمہ دکھائیں

حوالہ دکھائیں

حدیث دو حصوں میں دیکھیں


صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔