HADITH.One

Urdu

Support
hadith book logo

HADITH.One

Urdu

System

صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔
hadith book logo

Kanz al-Ummal

.

كنز العمال

4341

4341- عن الحسن أن سراقة بن مالك المدلجي حدثهم أن قريشا جعلت في رسول الله صلى الله عليه وسلم وأبي بكر أربعين أوقية، قال: "فبينما أنا جالس، إذ جاءني رجل، فقال: إن الرجلين اللذين جعلت قريش فيهما ما جعلت قريبان منك، بمكان كذا وكذا، فأتيت فرسي وهو في المرعى، فنفرت به، ثم أخذت رمحي فركبته، فجعلت أجر الرمح مخافة أن يشركني فيهما أهل الماء، فلما رأيتهما قال أبو بكر: هذا باغ يبغينا، فالتفت إلي النبي صلى الله عليه وسلم فقال: اللهم اكفناه بما شئت، قال فوحل فرسي وإني لفي جلد من الأرض فوقعت على حجر، فانقلب فقلت ادع الذي فعل بفرسي ما أرى أن يخلصه، وعاهده على أن لا يعصيه فدعا له فخلص الفرس، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أواهبه أنت لي؟ فقلت نعم، قال فههنا قال فعم عنا الناس، وأخذ رسول الله صلى الله عليه وسلم الساحل مما يلي البحر، فكنت أول النهار لهم طالبا، وآخر النهار لهم مسلحة" وقال لي: إذا استقررنا بالمدينة فإن رأيت أن تأتينا فأتنا فلما قدم المدينة وظهر على أهل بدر وأحد وأسلم الناس ومن حولهم بلغني أنه يريد أن يبعث خالد بن الوليد إلى بني مدلج، فأتيته فقلت له أنشدك النعمة، فقال القوم مه، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: دعوه، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ما تريد؟ فقلت بلغني أنك تريد أن تبعث خالد بن الوليد إلى قومي، فأنا أحب أن توادعهم فإن أسلم قومهم أسلموا معهم وإن لم يسلموا لم تخشن صدور قومهم عليهم، فأخذ رسول الله صلى الله عليه وسلم بيد خالد بن الوليد، فقال له: اذهب معه فاصنع ما يريد، فإن أسلمت قريش أسلموا معهم فأنزل الله عز وجل: {وَدُّوا لَوْ تَكْفُرُونَ كَمَا كَفَرُوا} حتى بلغ {إِلَّا الَّذِينَ يَصِلُونَ} الآية، قال الحسن فالذين حصرت صدورهم بنو مدلج، فمن وصل إلى بني مدلج من غيرهم كان في مثل عهدهم". "ش وابن أبي حاتم وابن مردويه وأبو نعيم في الدلائل" وسنده حسن.
4341: ۔۔ حضرت حسن (رض) فرماتے ہیں : سراقہ بن مالک مدلجی (رض) نے ان کو بیان فرمایا کہ (ہجرت رسول کے موقع پر) قریش نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ابوبکر (رض) کو لانے والے کے لیے چالیس اوقیہ کا انعام رکھا۔ چنانچہ میں بیٹھا تھا کہ ایک شخص میرے پاس آیا اور کہا کہ قریش نے جن کے بارے میں انعام مقرر کیا ہے وہ دونوں تیرے قریب ہیں، فلاں فلاں جگہ پر۔ چنانچہ میں اپنے گھوڑے کے پاس پہنچا جو چراگاہ میں چر رہا تھا۔ میں اس پر سوار ہوا اور اپنا نیزہ نکال لیا۔ میں تیز رفتاری کے ساتھ بار بار نیزے کو بلند کررہا تھا کہ کہیں دوسرے لوگ ان دونوں کو مجھ سے پکڑ لیں۔ جب میں نے ان دونوں کو دیکھا تو ابوبکر (رض) سے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرمایا : یہ باغی (تلاش کرنے والا ) ہے جو ہم کو تلاش کررہا ہے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میری طرف متوجہ ہوئے اور بد دعا کی یا اللہ اس کو ہماری طرف سے تو کافی ہوجا جیسے تو چاہے۔ چنانچہ میرا گھوڑا زمین میں دھنسنے لگا حالانکہ وہ سخت (پتھریلی) زمین تھی حتی کہ میں ایک چٹان پر گرگیا۔ پھر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میری طرف متوجہ ہوئے تو میں نے کہا : اس ذات سے دعا کیجیے جس نے میرے گھوڑے کے ساتھ یہ حال کیا ہے کہ وہ اس کو خلاصی مرحمت فرمائے۔
اور میں نے آپ سے یہ معاہدہ بھی کیا کہ آپ کی نافرمانی نہیں کروں گا۔ لہٰذا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دعا کی تو گھوڑا زمین سے نکل آیا۔ تب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے فرمایا : کیا تم یہ گھوڑا مجھے ہبہ کرتے ہو ؟ میں نے عرض کیا ضرور۔ پھر آپ نے مجھے اشارہ کرکے فرمایا : تم یہاں رہو اور لوگوں کو ہم سے اندھا کرو۔ پھر رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ساحل کے کنارے کنارے چلے گئے۔ میں شروع دن میں (آپ کا دشمن ہو کر) آپ کی تلاش میں سرگردں تھا۔ اور دن ڈھلے آپ کا محافظ سپاہی تھا۔ اور آپ نے مجھے یہ بھی فرمایا تھا کہ جب ہم مدینہ میں ٹھکانا پکڑ لیں اور تم آنا چاہو تو ہمارے پاس چلے آنا۔
چنانچہ جب (کچھ عرصہ بعد) آپ بدر و احد میں کامیاب ہوئے اور گردوپیش کے لوگ اسلام لے آئے تو مجھے یہ خبر ملی کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے (میرے قبیلے) بنی مدلج کے پاس خالد بن ولید کی امارت میں لشکر بھیجنے کا ارادہ فرمایا ہے۔ یہ سن کر میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آیا اور آپ کو گزشتہ حق کا واسطہ دیا۔ لوگوں نے مجھے چپ ہونے کو کہا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کو چھوڑ دو ۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے پوچھا : تم کیا چاہتے ہو ؟ میں نے عرض کیا : مجھے خبر ملی ہے کہ آپ خالد بن ولید کو میری قوم کے پاس بھیجنا چاہتے ہیں۔ لیکن میں چاہتا ہوں کہ آپ ان سے (یعنی میری قوم سے) صلح کرلیں۔
اگر (عرب کی قریش) قوم اسلام لے آئی تو وہ بھی اسلام لے آئیں گے اور اگر اسلام نہ لائی تو بھی ہماری قوم کے دل ان سے سخت نہ ہوں گے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خالد بن ولید کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا : اس کے ساتھ جاؤ اور جو یہ چاہتے ہیں ویسا ہی کرو۔ اگر قریش قوم اسلام لے آئی تو یہ بھی اسلام قبول کرلیں گے۔ تب اللہ پاک نے یہ فرمان نازل کیا :
ودوا لو تکفرون کما کفروا فتکونون سواء فلا تتخذوا منہم اولیاء الخ۔
الا الذین یصلون قوما الی قوم بینکم و بینہم میثاق الخ۔ النساء : 89 ۔ 90 ۔
وہ تو یہ چاہتے ہیں کہ جس طرح وہ خود کافر ہیں (اسی طرح) تم بھی کافر ہو کر (سب ) برابر ہوجاؤ تو جب تک وہ خدا کی راہ میں وطن نہ چھوڑ جائیں ان میں سے کسی کو دوست نہ بناؤ۔ اگر (ترک و طن کو) قبول نہ کریں تو ان کو پکڑ لو اور جہاں پاؤ قتل کردو اور ان میں سے کسی کو اپنا رفیق اور مددگار نہ بناؤ (89) مگر جو لوگ ایسے لوگوں سے جا ملے ہوں جن میں اور تم میں (صلح کا) عہد ہو یا اس حال میں کہ ان کے دل تمہارے ساتھ یا اپنی قوم کے ساتھ لڑنے سے رک گئے ہوں تمہارے پاس آجائیں (تو احتراز کرنا ضروری نہیں) اور اگر خدا چاہتا تو ان کو تم پر غالب کردیتا تو وہ تم سے ضرور لڑ پڑتے پھر اگر وہ تم سے کنارہ کشی کریں اور لڑیں نہیں اور تمہاری طرف صلح (کا پیغام) بھیجیں تو خدا نے تمہارے لیے ان پر (زبردستی کرنے کی) کوئی سبیل مقرر نہیں کی۔
حضرت حسن (رح) فرماتے ہیں الذین حصرت صدورہم جن کے دل لڑنے سے رک جائیں، اس سے مراد بنی صالح ہیں اور جو لوگ بنی مدلج کے ساتھ جا ملیں ان کے ساتھ بھی مذکورہ صلح ہوگی۔ ابن ابی شیبہ، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ، ابو نعیم فی الدلائل۔

پڑھنے کی ترتیبات

Urdu

System

عربی فونٹ منتخب کریں

Kfgq Hafs

ترجمہ فونٹ منتخب کریں

Noori_nastaleeq

22
17

عام ترتیبات

عربی دکھائیں

ترجمہ دکھائیں

حوالہ دکھائیں

حدیث دو حصوں میں دیکھیں


صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔