HADITH.One

Urdu

Support
hadith book logo

HADITH.One

Urdu

System

صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔
hadith book logo

Kanz al-Ummal

.

كنز العمال

4745

4745- عن أبي إدريس الخولاني قال: كان أبي يقرأ: "إذ جعل الذين كفروا في قلوبهم الحمية حمية الجاهلية ولو حميتم كما حموا نفسه لفسد المسجد الحرام، فأنزل الله سكينته على رسوله، فبلغ ذلك عمر فاشتد عليه فبعث إليه فدخل عليه، فدعا ناسا من أصحابه فيهم زيد بن ثابت فقال: من يقرأ منكم سورة الفتح؟ فقرأ زيد على قراءتنا اليوم، فغلظ له عمر، فقال أبي لأتكلم، قال تكلم: لقد علمت أني كنت أدخل على النبي صلى الله عليه وسلم ويقربني وأنت بالباب فإن أحببت أن أقرئ الناس على ما أقرأني أقرأت وإلا لم أقرئ حرفا ما حييت" "ن وابن أبي داود في المصاحف ك" وروى ابن خزيمة بعضه
4745: ۔۔ ابو ادریس خولانی (رح) سے مروی ہے کہ حضرت ابی (رض) سورة فتح کی یہ آیات یوں پڑھتے تھے :
اذ جعل الذین کفروا قلوبھم الحمیۃ حمیۃ الجاھلیۃ ولو حمیتم کما حمو نفسہ لفسد المسجد الحرام فانزل اللہ سکینتہ علی رسولہ۔
(جبکہ آیت ولو حمیتم کما حموا نفسہ المسجد الحرام منسوخ التلاوت ہوچکی ہے جس کا معنی ہے : اور اگر تم (بھی) کافروں کی طرح جاہلیت کی) حمایت کرتے جیسے انھوں نے اپنی کی تو مسجد حرام خراب ہوجاتی جب یہ بات حضرت عمر (رض) کو پہنچی تو حضرت عمر (رض) کو حضرت ابی (رض) پر سخت غصہ آیا۔ چنانچہ کسی کو بھیج کر حضرت ابی (رض) کو بلوایا۔ وہ تشریف لے آئے۔ پھر حضرت عمر (رض) نے دیگر چند اصحاب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھی بلایا جن میں زید بن ثابت بھی تھے۔ پھر حضرت عمر (رض) نے فرمایا : تم میں سے کون ہے جو سورة الفتح پڑھ کر سنائے گا ؟ لہٰذا حضرت زید (رض) نے آج کی قراءت کے مطابق سورة الفتح کی تلاوت کی۔ لہٰذا (حضرت ابی (رض) کی آیت کو اس میں بھی نہ پا کر) ان پر مزید غصہ ہوئے۔ حضرت ابی (رض) نے عرض کیا : میں کچھ کہنا چاہتا ہوں۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : یوں بولو : حضرت ابی (رض) نے عرض کیا : آپ جانتے ہیں کہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حاضر ہوتا رہتا تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی مجھے اپنے قریب رکھتے تھے جبکہ آپ تو دروازے پر ٹھہرے رہتے تھے۔ لہٰذا اگر آپ چاہتے ہیں کہ میں لوگوں کو اسی طرح پڑھاؤں جس طرح نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے پڑھایا ہے تو ٹھیک ہے میں پڑھاؤں گا۔ ورنہ میں تا زندگی ایک حرف بھی کسی کو نہیں پڑھاؤں گا۔ (نسائی، ابن ابی داؤد فی المصاحف، مستدرک الحاکم)
فائدہ : ۔۔۔ حضرت ابی (رض) کو غالباً ان آیات کے منسوخ ہونے کا علم نہ تھا اسی وجہ سے حضرت ابی (رض) نے ان آیات کو بھی قرآن کے ساتھ پڑھتے تھے۔ کیونکہ آخری دور میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے من جانب اللہ کچھ آیات کو منسوخ فرمایا اور دیگر احکام میں ردو بدل فرمایا جیسا کہ روای تنمبر 4725 میں گذر چکا۔ لہٰذا صحابہ کرام (رض) نے خلفاء راشدہ کے زمانہ میں قرآن جمع کیا اور شہادتوں کے ساتھ کیا۔ جس آیت پر کم از کم دو صحابہ شہادت دیتے تھے اسی کو قرآن کا حصہ بنا کر لکھا جاتا تھا۔ اس کوشش سے و قرآن جس کو پڑھا جانے کا حکم تھا وجود میں آیا اور قرآن کے منسوخ التلاوت حصص نکال دیے گئے، جیسا کہ سورة الاحزاب کے متعلق روایت نمبر 4743 میں حضرت ابی (رض) ہی کا ارشاد گذر چکا ہے۔
لہذا حضرت ابی (رض) بعد میں جن آیات کے قرآن ہونے پر مصر رہے جبکہ دیگر صحابہ کرام ان کے منسوخ ہونے کے قائل تھے تو زیادہ قریب قیاس توجیہ ہی ہے کہ حضرت ابی (رض) کو بعد کے نسخ کا علم نہ ہوسکا۔ واللہ اعلم بالصواب۔ (رض) اجمعین۔

پڑھنے کی ترتیبات

Urdu

System

عربی فونٹ منتخب کریں

Kfgq Hafs

ترجمہ فونٹ منتخب کریں

Noori_nastaleeq

22
17

عام ترتیبات

عربی دکھائیں

ترجمہ دکھائیں

حوالہ دکھائیں

حدیث دو حصوں میں دیکھیں


صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔