عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُسْرٍ قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ، فَقَالَ: طوبى لمن مَنْ طَالَ عُمُرُهُ، وَحَسُنَ عَمَلُهُ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: «أَنْ تُفَارِقَ الدُّنْيَا وَلِسَانُكَ رَطْبٌ مِنْ ذِكْرِ اللهِ. (رواه احمد والترمذى)
حضرت عبداللہ بسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور پوچھا کہ : “یا رسول اللہ! آدمیوں میں کون بہتر ہے”؟ (یعنی کس قسم کے آدمیوں کا انجام زیادہ اچھا ہونے والا ہے) آپ ﷺ نے فرمایا : “وہ لوگ جن کی عمر زیادہ ہو اور عمل اچھے ہوں” ۔ پھر انہوں نے پوچھا کہ : “یا رسول اللہ ! اعمال میں کون سا عمل افٖضل ہے” ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : “یہ کہ تم دنیا کو خیرباد کہو اور اس وقت تمہاری زبان اللہ کے ذکر دے تر ہو ۔ ” (مسند احمد ، جامع ترمذی)
تشریح
پہلے سوال کے جواب میں رسول اللہ ﷺ نے جو کچھ فرمایا اس کی وجہ ظاہر ہے کہ اچھے اعمال کے ساتھ عمر جتنی زیادہ ہو گی بندہ اتنی ہی ترقی کرے گا اور اللہ تعالیٰ کی رضا و رحمت کا اسی قدر زیادہ مستحق ہو گا ۔ دوسرے سوال کے جواب میں آپ ﷺ نے سب سے اچھا عمل یہ بتایا کہ مرتے دم تک اور خاص کر آخری وقت بندہ اللہ کے ذکر سے رطب اللسان ہو ۔ یعنی اس کی زبان پر ذوق اور لذت کے ساتھ اللہ کا نام ہو ۔ بلا شبہ یہ عمل اور یہ حال بڑا ہی عزیز اور قیمتی ہے ، اور جو بندہ اس کی قدر جانتا ہو وہ سب کچھ دے کے بھی اس کو لینے کے لئے خوشی سے آمادہ ہو گا ۔ اور یہ بھی ظاہر ہے کہ یہ بات اسی بندے کو نصیب ہو گی جو زندگی میں اللہ کے ذکر سے خاص مناسبت پیدا کر لے ، اور ذِکر اللہ اس کی روح کی غذا بن جائے ۔