عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لِكُلِّ شَيْءٍ سَنَامٌ، وَسَنَامُ القُرْآنِ سُورَةُ البَقَرَةِ وَفِيهَا آيَةٌ هِيَ سَيِّدَةُ آيِ القُرْآنِ، هِيَ آيَةُ الكُرْسِيِّ. (رواه الترمذى)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ : “ہر چیز کی کوئی چوٹی ہوتی ہے (جو سب سے اوپر اور بالا تر ہوتی ہے) اور قرآن کی چوٹی سورہ بقرہ ہے ، اور اس میں ایک آیت (آیت الکرسی) تمام آیاتِ قرآنی کی گویا سردار ہے ۔” (جامع ترمذی)
تشریح
اسلام کے بنیادی اصول و عقائد اور احکام شریعت کا جتنا تفصیلی بیان سورہ بقرہ میں کیا گیا ، اتنا اور ایسا قرآن پاک کی کسی دوسری سورت میں نہیں کیا گیا ۔ غالباً اسی خصوصیت کی وجہ سے اس کو قرآن مجید میں سب سے مقدر رکھا گیا ہے ، اور غالبا اسی امتیاز کی وجہ سے اس کو اس حدیث میں “سنام القرآن” کا لقب دیا گیا ہے ۔ واللہ اعلم ۔