عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: أَخَذَ بِيَدِىْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: يَا مُعَاذُ، وَاللَّهِ لَأُحِبُّكَ أُوصِيكَ يَا مُعَاذُ لَا تَدَعَهُنَّ فِي كُلِّ صَلَاةٍ اَنْ تَقُولُ: اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ، وَشُكْرِكَ، وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ " (رواه ابوداؤد والنسائى)
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑ کے فرمایا : “اے معاذ ! مجھے تجھ سے محبت ہے ، میں تجھے وصیت کرتا ہوں کہ ہر نماز کے بعد یہ دعا ضرور کیا کر : “اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ، وَشُكْرِكَ، وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ” (اے اللہ ! میری مدد فرما اور مجھے توفیق دے اپنے ذکر کی ، اپنے شکر کی اور اپنی اچھی عبادت کی) ” (سنن ابی داؤد ، سنن نسائی)
تشریح
نہایت مختصر ہونے کے باوجود یہ بڑی عظیم اور اہم دعا ہے ۔ اس کی عظمت اور اہمیت کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت معاذ بن جبل کو اپنی محبت کا واسطہ دے کر تاکید کے ساتھ اس کی وصیت اور تلقین فرمائی ۔ اسی طرح اس سے پہلی حدیث کی دعا “اللَّهُمَّ أَجِرْنِي مِنَ النَّارِ” کی تلقین بھی آپ ﷺ نے مسلم بن الحارثؓ کو خصوصیت اور اہتمام سے فرمائی تھی اور وہ بھی نہایت مختصر ہے ۔ اس غیر معمولی اہتمام کے ساتھ حضور ﷺ کی تعلیم و تلقین کے بعد ان دعاؤں کا اہتمام نہ کرنا بڑی ناقدری اور کم نصیبی کی بات ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو توفیق عطا فرمائے ۔