عَنْ سَلَمَةُ بْنِ الأَكْوَعِ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَطَسَ رَجُلٌ عِنْدَهُ فَقَالَ لَهُ: ((يَرْحَمُكَ اللَّهُ)). ثُمَّ عَطَسَ أُخْرَى فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ((الرَّجُلُ مَزْكُومٌ. (رواه مسلم وفى رواية للترمذى انه قال له فى الثالثة انه مزكوم)
حضرت سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص کو رسول اللہ ﷺ کے سامنے چھینک آئی تو آپ ﷺ نے “يَرْحَمُكَ اللَّهُ” فرمایا ۔ وہ پھر چھینکا تو آپ ﷺ نے فرمایا : اس آدمی کو زکام ہے (اس لئے ہر دفعہ يَرْحَمُكَ اللَّهُ کہنا ضروری نہیں) ۔ (صحیح مسلم)
تشریح
اور جامع ترمذی کی ایک روایت میں ہے کہ یہ بات حضور ﷺ نے اس وقت فرمائی جب اس آدمی کو تیسری دفعہ چھینک آئی ۔
ایک دوسرے صحابی عبید ابن ابی رفاعہ سے رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد بھی مروی ہے ۔
شَمِّتِ العَاطِسُ ثَلَاثًا، فَمَا زَادَ فَإِنْ شِئْتَ فَشَمِّتْهُ وَإِنْ شِئْتَ فَلَا
چھینکنے والے کو تین دفعہ تک تو یرحمک اللہ کہو اس کے آگے کہو چاہے نہ کہو ۔ (رواہ ابو داؤد والترمذی)