عَنْ عُمَرَ رَضِي الله عَنهُ قَالَ: عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " قُلْ: اللَّهُمَّ اجْعَلْ سَرِيرَتِي خَيْرًا مِنْ عَلَانِيَتِي، وَاجْعَلْ عَلَانِيَتِي صَالِحَةً، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ صَالِحِ مَا تُؤْتِي النَّاسَ مِنَ المَالِ وَالأَهْلِ وَالوَلَدِ، غَيْرِ الضَّالِّ والْمُضِلِّ " (رواه الترمذى)
حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے ایک دعا تعلیم فرمائی ، اور مجھ سے ارشاد فرمایا : “اللَّهُمَّ اجْعَلْ سَرِيرَتِي تا غَيْرِ الضَّالِّ وَلَا المُضِلِّ” (اے اللہ ! میرا باطن میرے ظاہر سے اچھا کر دے اور میرے ظاہر کو بھی اصلاح سے آراستہ فرما دے ۔ اے اللہ! تو اپنے بندوں کو (اپنے فضل و کرم سے) جو ایسے صالح گھر والے ، صالح مال اور صالح اولاد عطا فرماتا ہے جو نہ خود گمراہ ہوں اور نہ دوسروں کے لئے گمراہ ک ہوں ۔ میں بھی تجھ سے ان چیزوں کا سائل ہوں (مجھے بھی اپنے فضل و کرم سے یہ چیزیں عطا فرما) ۔ (جامع ترمذی)
تشریح
اس دعا کا پہلا جز یہ ہے کہ اے اللہ ! مجھے ایسا بنا دے کہ میرا ظاہر بھی صالح ہو اور میرا باطن بھی صالح ہو ، اور باطن کی حالت ظاہر سے بھی بہتر ہو ۔ اور دوسرا جز یہ ہے کہ میرے اہل خانہ اور میری اولاد اور میرا مال و منال یہ سب بھی صالح ہوں ، نہ خود ان میں ضلال و فساد ہو ، نہ دوسروں کے لئے یہ باعث ضلال و فساد بنیں ۔