عن أبي أُمَامَةَ (مَرْفُوْعًا) قُلْ «اللهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ نَفْسًا بِكَ مُطْمَئِنَّةً، تُؤْمِنُ بِلِقَائِكَ، وَتَرْضَى بِقَضَائِكَ، وَتَقْنَعُ بِعَطَائِكَ» (رواه الضياء فى المختاره والطبرانى فى الكبير)
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺسے یہ دعا روایت کی ہے : “اللهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ تا تَقْنَعُ بِعَطَائِكَ ” (اے اللہ ! میں تجھ سے مانگتا ہوں “نفس مطمئنہ” یعنی ایسا نفس جس کو تیری طرف سے اطمینان اور جمیعت کی دولت نصیب ہو ، اور مرنے کے بعد تیرے حضور میں حاضری کا اس کو کامل یقین ہو اور تیرے فیصلوں پر وہ راضی و مطمئن ہو ، اور تیری طرف سے جو کچھ ملے وہ اس پر قانع ہو) ۔ (مختارہ للضیاء المقدسی ، معجم کبیر طبرانی)
تشریح
“نفسِ مطمئنہ” وہی ہے جس میں یہ صفائی پائی جائیں اور یہ وہ نعمت ہے جو خاص ہی خاص بندوں کو عطا ہتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے نصیب فرمائے ۔