عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ مِنْ دُعَاءِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ زَوَالِ نِعْمَتِكَ، وَتَحَوُّلِ عَافِيَتِكَ، وَفُجَاءَةِ نِقْمَتِكَ، وَجَمِيعِ سَخَطِكَ» (رواه مسلم)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی دعاؤں میں سے ایک دعا یہ بھی تھی : “اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ تا وَجَمِيعِ سَخَطِكَ” (اے میرے اللہ ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں تیری نعمتوں کے زائل ہو جانے سے ، اور تیری بخشی ہوئی عافیت کے چلے جانے سے ، اور تیرے عذاب کے ناگہانی آ جانے سے ، اور تیری ہر قسم کی ناراضی اور ناخوشی ہے) ۔ (صحیح مسلم)
تشریح
رسول اللہ ﷺ کی اس دعا سے بلکہ اس سلسلہ کی ساری ہی دعاؤں سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ نبوت رسالت بلکہ مقامِ محبوبیت پر بھی جائز ہونے کے باوجود قضاء و قدر کے فیصلوں سے آپ ﷺ کتنے لرزاں و ترساں رہتے تھے ، اور اپنے کو اللہ تعالیٰ کی نگاہِ کرم اور اس کی حفاظت و پناہ کا کتنا محتاج سمجھتے تھے ، صحیح ہے ۔
“قریبان را بیش بود حیرانی”