عَنْ شَكَلِ بْنِ حُمَيْدٍ، قَالَ: قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللهِ عَلِّمْنِي تَعَوُّذًا أَتَعَوَّذُ بِهِ. فَأَخَذَ بِكَفِّي وَقَالَ: " قُلْ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ سَمْعِي، وَمِنْ شَرِّ بَصَرِي، وَمِنْ شَرِّ لِسَانِي، وَمِنْ شَرِّ قَلْبِي، وَمِنْ شَرِّ مَنِيِّي " (رواه ابوداؤد والترمذى والنسائى)
شکل بن حمید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ : یا رسول اللہ! مجھے کوئی تعوذ تعلیم فرما دیجئے (یعنی کوئی ایسی دعا بتا دیجئے) جس کے ذریعہ میں اللہ سے پناہ و حفاظت طلب کیا کروں ؟ آپ ﷺ نے میرا ہاتھ اپنے دستِ مبارک میں تھام کر فرمایا : کہو “اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ سَمْعِي تا وَمِنْ شَرِّ مَنِيِّي” (اے اللہ ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں اپنے کانوں کے شر سے ، اپنی نگاہ کے شر سے ، اور اپنی زبان کے شر سے ، اور اپنے قلب کے شر سے ، اور اپنے مادہ شہوت کے شر سے) ۔ (سنن ابی داؤد ، جامع ترمذی ، سنن نسائی)
تشریح
سمع و بصر اور زبان و قلب اور اسی طرح جنسی خواہش کا شر یہ ہے کہ یہ چیزیں احکامِ خداوندی کے خلاف استعمال ہوں ، جس کا انجام اللہ کا غضب اور اس کا عذاب ہے ۔ اس لئے ضروری ہے کہ اس شر سے محفوظ رہنے کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا کی جائے اور اس کی پناہ مانگی جائے ، وہی اگر بچائے گا تو بندہ بچ سکے گا ورنہ مبتلا ہو کر ہلاک ہو جائے گا ۔