عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ يَقْبَلُ تَوْبَةَ الْعَبْدِ مَا لَمْ يُغَرْغِرْ» (رواه الترمذى وابن ماجه)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ : اللہ تعالیٰ بندے کی توبہ اس وقت تک قبول کرتا ہے جب تک غرغرہ کی کیفیت شروع نہ ہو ۔ (جامع ترمذی ، سنن ابن ماجہ)
تشریح
موت کے وقت جب بندے کی روح جسم سے نکلنے لگتی ہے تو حلق کی نالی میں ایک قسم کی آواز پیدا ہو جاتی ہے ، جسے عربی میں “غرغرہ” اور اردو میں “خرہ چلنا” کہتے ہیں ۔ اس کے بعد زندگی کی کوئی آس اور امید نہیں رہتی ، یہ موت کی قطعی اور آخری علامت ہے ۔ اس حدیث میں فرمایا گیا ہے کہ غرغرہ کی اس کیفیت کے شروع ہونے سے پہلے پہلے بندہ اگر توبہ کر لے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرمائے گا ۔ غرغرہ کی کیفیت شروع ہونے کے بعد آدمی کا رابطہ اور تعلق اس دنیا سے کٹ کر دوسرے عالم سے جُڑ جاتا ہے ، اس لئے اس وقت اگر کوئی کافر اور منکر ایمان لائے یا کوئی نافرمان بندہ گناہوں اور نافرمانیوں سے توبہ کرے تو اللہ تعالیٰ کے یہاں قابلِ قبول نہ ہو گا ۔ ایمان اور توبہ اسی وقت تک کی معتبر اور قابلِ قبول ہے جب تک زندگی کی آس اور امید ہو ، اور موت آنکھوں ے سامنے نہ آ گئی ہو ۔ قرآنِ پاک میں بھی صراحت کے ساتھ فرمایا گیا ہے :
وَلَيْسَتِ التَّوْبَةُ لِلَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّئَاتِ حَتَّىٰ إِذَا حَضَرَ أَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ إِنِّي تُبْتُ الْآنَ
ایسے لوگوں کی توبہ قبول نہیں جو برابر گناہ کرتے رہتے ہیں ، یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کے سامنے موت آ کھڑی ہو تو کہنے لگے کہ اب میں توبہ کرتا ہوں ۔
حدیث کے مضمون کا ماخذ بظاہر یہی آیت ہے اور اس کا پیغام یہی ہے کہ :
بندے کو چاہئے کہ توبہ کے معاملہ میں ٹال مٹول نہ کرے ، معلوم نہیں کس وقت موت کی گھڑی آ جائے اور خدانخواستہ توبہ کا وقت ہی نہ ملے ۔