عَنْ عُمَرَ بْنِ الخَطَّابِ رَضِي الله عَنهُ قَالَ: إِنَّ الدُّعَاءَ مَوْقُوفٌ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ لاَ يَصْعَدُ مِنْهُ شَيْءٌ، حَتَّى تُصَلِّيَ عَلَى نَبِيِّكَ. (رواه الترمذى)
حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا : دعا آسمان اور زمین کے درمیان ہی رکی رہتی ہے اوپر نہیں جا سکتی جب تک کہ نبی پاکﷺ پر درود نہ بھیجا جائے ۔ (جامع ترمذی)
تشریح
وہ حدیث “آداب دعا” کے ذیل میں (صفحہ ۹۹پر) گزر چکی ہے ۔ جس میں ہدایت فرمائی گئی ہے کہ دُعا کرنے والے کو چاہئے کہ پہلے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کرے اور رسول اللہ ﷺ پر درود بھیجے ، اس کے بعد اللہ تعالیٰ کے حضور میں اپنی حاجت عرج کرے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اس ارشاد سے معلوم ہوا کہ دعا کے بعد بھی رسول اللہ ﷺ پر صلوٰۃ بھیجنی چاہئے ، وہ دعا کی قبولیت کا خاص وسیلہ ہے ۔ “حصن حصین” میں شیخ ابو سلیمان دارانیؒ سے نقل کیا گیا ہے انہوں نے فرمایا کہ درود شریف (جو رسول اللہ ﷺ کے حق مین ایک اعلیٰ و اشرف دعا ہے) وہ تو اللہ تعالیٰ ضرور ہی قبول فرماتا ہے ، پھر جب بندہ اپنی دعا سے پہلے بھی اللہ تعالیٰ سے حضور ﷺ کے حق میں دعا کرے اور اس کے بعد بھی دعا کرے تو اس کے کرم سے یہ بہت ہی بعید ہے کہ وہ اول و آخر کی دعائیں تو قبول کر لے اور درمیان کی اس بےچارے کی دعا رد کر دے ، اس لئے پوری امید رکھنی چاہئے کہ جس دعا کے اول و آخر رسول اللہ ﷺ پر صلوٰۃ بھیجی جائے گی وہ ان شاء اللہ ضرور قبول ہو گی ۔
مندرجہ بالا روایت میں اس کا ذکر نہیں ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ بات (جو انہوں نے دعا کی قبولیت کے بارے میں فرمائی) رسول اللہ ﷺ سے سنی تھی ، لیکن چونکہ یہ ایسی بات ہے کہ کوئی شخص اپنی رائے اور فہم سے ایسا دعویٰ نہیں کر سکتا ، بلکہ اللہ کے پیغمبر ﷺ سے سُن کے ہی ایسی بات کہی جا سکتی ہے ، اس لئے محدثین کے مسلمہ اصول کے مطابق یہ روایت حدیث مرفوع ہی کے حکم میں ہے ۔