عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ لِلَّهِ مَلَائِكَةً سَيَّاحِينَ فِي الْأَرْضِ، يُبَلِّغُونِي مِنْ أُمَّتِي السَّلَامَ» (رواه النسائى والدارمى)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ : اللہ کے کچھ فرشتے ہیں جو دنیا میں چکر لگاتے رہتے ہیں اور میرے امتیوں کا سلام و صلوٰۃ مجھے پہنچاتے ہیں ۔ (سنن نسائی ، مسند دارمی)
تشریح
ایک دوسری حدیث میں جس کو طبرانی وغیرہ نے حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے ، یہ بھی تفصیل ہے کہ صلوٰۃ و سلام پہنچانے والا فرشتہ بھیجنے والے امتی کے ام کے ساتھ صلوٰۃ و سلام پہنچاتا ہے ، کہتا ہے : “يا محمد صلى عليك فلان كذا وكذا” (اے محمدﷺ ! تمہارے فلاں اُمتی نے تم پر اس طرح صلوٰۃ و سلام بھیجا ہے) اور حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کی اسی حدیث کی بعض روایات میں یہ بھی ہے کہ وہ فرشتہ صلوٰۃ و سلام بھیجنے والے امتی کا نام اس کی ولدیت کے ساتھ ذکر کرتا ہے یعنی حضور ﷺ کی خدمت میں عرض کرتا ہے : “يا محمد صلى عليك فلان كذا وكذا” کتنی خوش قسمتی ہے اور کتنا اَرزاں سودا ہے کہ جو امتی اخلاص کے ساتھ صلوٰۃ و سلام عرض کرتا ہے ، وہ حضور ﷺ کی خدمت میں اس کے نام اور ولدیت کے ساتھ فرشتے کے ذریعہ پہنچتا ہے ، اور اس طرح آپ ﷺ کی بارگاہِ عالی میں اُس بےچارے مسکین اُمتی اور اس کے باپ کا ذِکر بھی آ جاتا ہے ۔ ؎
جاں میدہم در آرزو اے قاصد آخر باز گو
در مجلس آں نازنیں حرفے کہ اَز ما مے رَوَد