عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَحَبَّ أَسْمَائِكُمْ إِلَى اللهِ عَبْدُ اللهِ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ» (رواه مسلم)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ : تمہارے ناموں میں اللہ کو سب سے زیادہ محبوب اور پسندیدہ نام عبداللہ اور عبدالرحمن ہیں ۔ (صحیح مسلم)
تشریح
عبداللہ اور عبدالرحمن کے زیادہ پسندیدہ ہونے کی وجہ ظاہر ہے اس میں بندے کی عبدیت کا اعلان ہے اور وہ چیز اللہ کو پسند ہے ۔ اسی طرح انبیاء علیہم السلام کے نام بھی پسندیدہ ناموں میں سے ہیں وہ انبیاء علیہم السلام کے ساتھ نسبت کو ظاہر کرتے ہیں ۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے صاحبزادے کا نام ابراہیم رکھا تھا ۔ اور سنن ابی داؤد وغیرہ میں آپ ﷺ کا یہ ارشاد بھی مروی ہے : “سَمُّوْا بِاَسْمَاءِ الْاَنْبِيَاء” (یعنی پیغمبروں کے نام پہ نام رکھو) اس کے علاوہ رسول اللہ ﷺ نے بعض بچوں کے نام ایسے رکھے جو معنوی لحاظ سے اچھے ہیں ، اگرچہ وہ پیغمبروں کے معروف ناموں میں سے نہیں ہیں مثلاً اپنے نواسوں کا نام حسن اور حسین رکھا ، اور ایک انصاری صحابی کے بچے کا نام مُنذِر رکھا ۔ الغرض اس باب میں رسول اللہ ﷺ کے طرز عمل اور آپ کے ارشادات سے یہی رہنمائی ملتی ہے کہ باپ کی ذمہ داری ہے کہ بچے کا اچھا نام رکھے یا اپنے کسی بزرگ سے رکھوائے ۔