hadith book logo

Maarif ul Hadith: Hadith 1401

10. کتاب المعاملات والمعاشرت

معارف الحدیث

1401
Maarif ul Hadith
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُجَاهِدُ؟ قَالَ: «أَلَكَ أَبَوَانِ؟» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «فَفِيهِمَا فَجَاهِدْ» (رواه ابوداؤد)
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میں جہاد میں جانا چاہتا ہوں ۔ آپ ﷺ نے پوچھا کیا تمہارے ماں باپ ہیں ؟ اس نے کہا ۔ ہاں ہیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا : تو پھر ان کی خدمت اور راحت رسانی میں جدو جہد کرو ۔ یہی تمہارا جہاد ہے ۔ (سنن ابی داؤد)

تشریح
غالباً رسول اللہ ﷺ پریہ بات منکشف ہو گئی تھی یا کسی وجہ سے اس کے بارے میں شبہ ہو گیا تھا کہ اس آدمی کے ماں باپ اس کی خدمت کے محتاج ہیں ، اور یہ ان کو چھوڑ کے ان کی اجازت کے بغیر جہاد کے لئے آ گیا ہے ، اس لئے آپ ﷺ نے اس کو یہ حکم دیا کہ وہ گھر واپس جا کر ماں باپ کی خدمت کرے ، کیوں کہ ایسی حالت میں اس کے لئے ماں باپ کی خدمت مقدم ہے ۔
اس حدیث سے یہ نتیجہ نکالنا غلط ہو گا کہ جس کسی کے ماں باپ ہوں وہ جہاد اور دین کی کسی خدمت کے لئے کبھی گھر سے باہر نہ نکلے ، اور صرف وہی لوگ جہاد میں اور دین کی خدمت میں لگیں جن کے ماں باپ نہ ہوں ۔ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جہاد کرتے تھے اور ان میں بڑی تعداد انہی کی ہوتی تھی جن کے ماں باپ زندہ ہوتے تھے ۔