عَنْ عَلِيٍّ ابْنَ شَيْبَانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ بَاتَ عَلَى ظَهْرِ بَيْتٍ لَيْسَ عَلَيْهَِ حِجَابٌ (وَفِىْ رِوَايَةً حِجَارٌ) فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ الذِّمَّةُ» (رواه ابوداؤد)
علی بن شیبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ : جو شخص کسی گھر کی ایسی چھت پر سوئے جس پر پردہ اور رکاوٹ کی دیوار نہ ہو تو اس کی ذمہ داری ختم ہو گئی ۔ (سنن ابی داؤد)
تشریح
یہ دراصل ممانعت کا ایک بلیغ انداز ہے ، اور مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندوں کی حفاظت کے جو غیبی انتظامات ہیں ، جن کا اشارہ قرآن مجید میں بھی کیا گیا ہے (قُلْ مَن يَكْلَؤُكُم بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ الآية) تو اگر کوئی آدمی جان بوجھ کر ایسی چھت پر سوتا ہے جس کے گرد رکاوٹ کے لئے کوئی دیوار یا منڈیر نہیں ہے تو اللہ تعالیٰ کے اس حفاظتی انتظام کا استحقاق کھو دیتا ہے اور ملائکہ محافظین کی کوئی ذمہ داری نہیں رہتی اور اگر خدانخواستہ وہ گر کے ہلاک ہو جاتا ہے یا اس کو سخت جسمانی صدمہ پہنچ جاتا ہے تو کسی دوسرے پر اس کی ذمہ داری نہیں وہ خود ہی ذمہ دار ہے ۔