عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَصْدَقُ كَلِمَةٍ قَالَهَا الشَّاعِرُ، كَلِمَةُ لَبِيدٍ: أَلاَ كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلاَ اللَّهَ بَاطِلٌ. (رواه البخارى ومسلم)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : سب سے زیادہ سچی بات جو کسی شاعر نے کہی ہے وہ لبید بن ربیعہ شاعر کی یہ بات (یعنی یہ مصرع) ہے : “ أَلاَ كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلاَ اللَّهَ بَاطِلٌ ” (آگاہی ہو کہ اللہ کے سوا ہر چیز فانی ہے) ۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
یہ لبید زمانہ جاہلیت کا مشہور و مقبول شاعر تھا ، لیکن اس کی شاعری اس زمانہ میں بھی خداپرستانہ اور پاکیزہ تھی ۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کے مصرعہ “ أَلاَ كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلاَ اللَّهَ بَاطِلٌ ” کو شعر کی دنیا کا سب سے سچا کلمہ اس لئے فرمایا کہ یہ قرآن مجید کے اس ارشاد کے بالکل ہم معنی ہے ۔ “كُلُّ شَيْءٍ هَالِكٌ إِلَّا وَجْهَهُ” اس کے ساتھ کا دوسرا مصرعہ یہ ہے “وَكُلُّ شَيْءٍ لَا مَحَالَةَ زَائِلُ” (یعنی یہاں کی ہر نعمت ایک دن ختم ہو جانے والی ہے) ،
یہ شعر لبید کے جس قصیدہ کا ہے وہ انہوں نے اپنے دور جاہلیت ہی میں کہا تھا ، پھر اللہ تعالیٰ نے قبولِ اسلام کی توفیق عطا فرمائی ۔ روایات میں ہے کہ اسلام قبول کر لینے کے بعد شعر و شاعری کا مشغلہ بالکل چھوٹ گیا اور کہا کرتے تھے کہ “يَكْفِيْنِى الْقُرْآنُ” (بس اب قرآن میرے لئے کافی ہے) اللہ تعالیٰ نے بہت طویل عمر بھی عطا فرمائی ۔ حافظ ابن حجر کے بیان کے مطابق حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت میں ۱۵۶ سال کی عمر میں وفات پائی (1) رضى الله عنه وارضاه۔