عَنْ قَبِيصَةَ بْنَ هُلْبٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ طَعَامِ النَّصَارَى فَقَالَ: لاَ يَتَخَلَّجَنَّ فِي صَدْرِكَ طَعَامٌ ضَارَعْتَ فِيهِ النَّصْرَانِيَّةَ. (رواه الترمذى)
قبیصہ بن ہلب اپنے والد ہلب طائی سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے نصاری کا کھانا کھانے کے بارے میں سوال کیا (کہ جائز ہے یا ناجائز ؟) تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ :اس کے کھانے کے بارے میں تمہارے دل میں کوئی خلجان نہیں ہونا چاہئے ۔ تم اس (تنگ نظری اور بیجا شدت پسندی میں) طریقہ نصرانیت سے مشابہ ہو گئے ۔ (جامع ترمذی)
تشریح
یہ ہلب طائی پہلے خود نصرانی المذہب تھے ، بعد میں اللہ تعالیٰ نے ایمان و اسلام نصیب فرمایا تو ان کو نصاریٰ یعنی عیسائیوں کے ہاں کھانے اور ان کا ذبیحہ کھانے کے بار ے میں تردد تھا ۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اس بارے میں دریافت کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ : اس بارے میں تمہارے دل میں کئی تردد اور خلجان نہیں ہونا چاہئے یعنی ہماری شریعت میں ان کا کھانا اور ذبیحہ جائز ہے ۔ قرآن پاک میں ان الفاظ میں بیان فرمایا گیا ہے ۔ “وَطَعَامُ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حِلٌّ لَّكُمْ” (1) ۔ (یعنی اہل کتاب کا کھانا تمہارے واسطے حلال ہے) آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ : کھانے پینے میں یہ تنگ نظری اور شدت پسندی عیسائی راہبوں کا شیوہ ہے ۔ اگر تم وہی طریقہ اپناتے ہو تو گویا ان کی ہم رنگی اختیار کرتے ہو ۔ ہماری شریعت میں یہ تنگی نہیں بلکہ وسعت ہے ۔ وَالْحَمْدُ لِلَّـهِ۔