عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، «أَنَّهُ نَهَى أَنْ يَشْرَبَ الرَّجُلُ قَائِمًا» (رواه مسلم)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کھڑے کھڑے پینے سے منع فرمایا ۔
(صحیح بخاری)
تشریح
بعض اور حدیثوں میں بھی کھڑے ہونے کی حالت میں پینے کی ممانعت وارد ہوئی ہے ، لیکن حضرت عبداللہ بن عمرؓ اور حضرت عبداللہ بن عمروؓ اور بعض دوسرے صحابہ کرام نے بیان کیا ہے کہ ہم نے حضور ﷺ کو کھڑے ہونے کی حالت میں بھی پانی پیتے دیکھا ہے ۔ اس سلسلہ کی مختلف احادیث و روایات کو سامنے رکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ کھڑے ہونے کی حالت میں پینا پسندیدہ نہیں ہے اور رسول اللہ ﷺ کا عام معمول بیٹھ کر ہی پینے کا تھا ، لیکن کبھی کبھی آپ ﷺ نے کھڑے ہونے کی حالت میں بھی پیا ہے تو یا تو اس وقت اس کا کوئی خاص سبب ہو گا یا آپ ﷺ نے بیانِ جواز کے لئے کیا ہو گا ۔ کچھ ہی پہلے ذکر کیا جا چکا ہے کہ رسول اللہ ﷺ بعض اوقات یہ ظاہر کرنے کے لئے کہ جائز یہ بھی ہے اور اس کی بھی گنجائش ہے ، افضل و ادنیٰ کے خلاف بھی عمل کر لیتے تھے اور چونکہ تعلیم کی نیت سے کرتے تھے اس لئے آپ ﷺ کے حق میں اس وقت یہی اولیٰ و افضل ہوتا تھا ۔ واللہ اعلم ۔