عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَعَلَىَّ ثَوْبٍ دُونٍ، فَقَالَ: لِىْ «أَلَكَ مَالٌ؟» قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: «مِنْ أَيِّ الْمَالِ؟» قُلْتُ مِنْ كُلِّ الْمَالِ قَدْ اَعْطَانِى الله مِنَ الإِبِلِ، والبقر وَالْغَنَمِ، وَالْخَيْلِ، وَالرَّقِيقِ، قَالَ: «فَإِذَا آتَاكَ اللَّهُ مَالًا فَلْيُرَ أَثَرُ نِعْمَةِ اللَّهِ عَلَيْكَ، وَكَرَامَتِهِ» (رواه احمد والنسائى)
ابو الاحوص تابعی اپنے والد (مالک بن فضلہ) سے روایت کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ور میں بہت معمولی اور گھٹیا قسم کے کپڑے پہنے ہوئے تھا تو آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا کیا تمہارے پاس کچھ مال و دولت ہے َ؟ میں نے عرض کیا کہ ہاں (اللہ کا فضل ہے) آپ نے پوچھا کہ کس نوع کا مال ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ مجھے اللہ نے ہر قسم کا مال دے رکھا ہے ، اونٹ بھی ہیں ، گائے بیل بھی ہیں بھیڑ بکریاں بھی ہیں ، گھوڑے بھی ہیں ، غلام باندیاں بھی ہیں ۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : جب اللہ نے تم کو مال و دولت سے نوازا ہے تو پھر اللہ کے انعام و احسان اور اس کے فضل و کرم کا اثر تمہارے اوپر نظر آنا چاہئے ۔ (مسند احمد ، سنن نسائی)