عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " مَنْ أَحَبَّ دُنْيَاهُ أَضَرَّ بِآخِرَتِهِ ، وَمَنْ أَحَبَّ آخِرَتَهُ أَضَرَّ بِدُنْيَاهُ ، فَآثِرُوا مَا يَبْقَى عَلَى مَا يَفْنَى " (رواه احمد والبيهقى فى شعب الايمان)
حضرت ابو موسیٰ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو شخص دنیا کو اپنا محبوب و مطلوب بنائے گا وہ اپنی آخرت کا ضرور نقصان کرے گا ، اور جو کوئی آخرت کو محبوب بنائے گا وہ اپنی دنیا کا ضرور نقصان کرے گا ، پس (جب دنیا و آخرت میں سے ایک محبوب بنانے سے دوسرے کا نقصان برداشت کرنا لازم اور ناگزیر ہے ، تو عقل و دانش کا تقاضہ یہی ہے کہ) فنا ہو جانے والی دنیا کے مقابلہ میں باقی رہنے والی آخرت اختیار کرو ۔ (مسند احمد ، شعب الایمان للبیہقی)
تشریح
ظاہر ہے کہ جو شخص دنیا کو اپنا محبوب و مطلوب بنائے گا تو اس کی اصل فکر و سعی دنیا ہی کے واسطے ہوگی اور آخرت کو یا تو وہ بالکل ہی پشِ پشت ڈال دے گا ، یا اس کے لیے بہت کم جدو جہد کرے گا ، جس کا نتیجہ بہر حال آخرت کا خسارہ ہو گا ۔
اسی طرح جو شخص آخرت کو محبوب و مطلوب بنائے گا ، اس کی اصلی سعی و کوشش آخرت کے لیے ہوگی اور وہ ایک دنیا پرست کی طرح دنیا کے لئے جدو جہد نہیں کر سکے گا ، جس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ وہ دنیا زیادہ نہ سمیٹ سکے گا ، پس صاحبِ ایمان کو چاہیے کہ وہ قاپنی محبت اور چاہت کے لیے آخرت کو منتخب کرے ، جو ہمیشہ باقی رہنے والی ہے ، اور دنیا تو بس چند روز میں فنا ہو جانے والی ہے ۔