hadith book logo

Maarif ul Hadith: Hadith 189

2. کتاب الرقاق

معارف الحدیث

189
Maarif ul Hadith
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَرَضَ عَلَيَّ رَبِّي لِيَجْعَلَ لِي بَطْحَاءَ مَكَّةَ ذَهَبًا ، قُلْتُ : لاَ يَا رَبِّ وَلَكِنْ أَشْبَعُ يَوْمًا وَأَجُوعُ يَوْمًا ، فَإِذَا جُعْتُ تَضَرَّعْتُ إِلَيْكَ وَذَكَرْتُكَ ، وَإِذَا شَبِعْتُ حَمِدْتُكَ وَشَكَرْتُكَ . (رواه احمد والترمذى)
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا کہ : اللہ تعالیٰ نے میرے سامنے یہ بات رکھی کہ میرے لیے وہ مکہ کی وادی کو (یا ص کے سنگریزوں کو) سونا بنا دے ، اور سونے سے بھر دے (یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے میرے سامنے یہ بات رکھی گئی ، کہ اگر تم دولت مند بننا چاہو ، تو تمہارے لئے مکہ کی وادی کو ہم سونے سے بھر سکتے ہیں) تو میں نے عرض کیا کہ میرے پروردگار ! میں اپنے لئے یہ نہیں مانگتا ، بلکہ میں (ایسی ناداری اور غریبی کی ھالت میں رہنا پسند کرتا ہوں کہ) ایک دن پیٹ بھر کھاؤں ، اور ایک دن بھوکا رہوں ، تو جب مجھے بھوک لگے تو آپ کو یاد کروں ، آپ کے سامنے عاجزی اور گریہ و زاری کروں ، اور جب آپ کی طرف سے مجھے کھانا ملے اور میرا پیٹ بھرے ، تو میں آپ کی حمد اور اور آپ کا شکر کروں ۔ (مسند احمد ، جامع ترمذی)

تشریح
معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فقر و فاقہ کی جس حالت میں زندگی گزاری ، وہ اپنے لئے خود آپ نے پسند کی تھی ، اور اپنے اللہ سے آپ نے اس کو خود مانگا تھا ۔ (آپ کی معیشت سے متعلق حدیثیں عنقریب ہی مستقل عنوان کے تحت درج کی جائیں گی) ۔