عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يَكُونَ هَوَاهُ تَبَعًا لِمَا جِئْتُ بِهِ» (رواه فى شرح السنة وقال النووى فى اربعينه هذا حديث صحيح رويناه فى كتاب الحجة باسناد صحيح مشكوة المصابيح)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم میں سے کوئی (حقیقی) مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ اس کی خواہشات میری لائی ہوئی ہدایت وتعلیم کے تابع نہ ہو جائیں۔ (اس حدیث کو امام محی السنہ بغوی نے شرح السنہ میں روایت کیا ہے اور امام نووی نے اپنی کتاب اربعین میں لکھا ہے کہ یہ حدیث اسناد کی رو سے صحیح ہے۔ ہم نے اسکو کتاب الحجہ میں صحیح اسناد کے ساتھ روایت کیا ہے)
تشریح
حدیث کا پیغام اور مدعا یہ ہے کہ حقیقی مومن وہی ہے جس کا دل و دماغ اور جس کی خواہشات و رجحانات آپ کی لائی ہوئی ہدایت و تعلیم (کتاب و سنت) کے تابع ہو جائیں یہ آپ پر ایمان لانے اور آپ کو خدا کا رسول مان لینے کا لازمی اور منطقی نتیجہ بھی ہے اگر کسی کا یہ حال نہیں ہے تو سمجھنا چاہیے کہ اس کو حقیقی ایمان ابھی نصیب نہیں ہوا ہے وہ اس کی فکر اور اپنے کو اس معیار پر لانے کی کوشش کرے۔