عَنْ عُمَرَ قَال۔ قَالَ رسول الله ْﷺ أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا: لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَمَنْ قَالَ: لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَقَدْ عَصَمَ مِنِّي مَالَهُ وَنَفْسَهُ إِلَّا بِحَقِّهِ، وحسابه على اللَّهُ (رواه البخاري ومسلم)
حضرت عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : “مجھے حکم ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک جنگ جاری رکھوں جب تک کہ وہ “لا الہ الا اللہ ” کے قائل نہ ہو جائیں ، پس جو شخص “لا الہ الا اللہ” کا قائل ہو گیا اس نے اپنے مال اور اپنی جان کو محفوظ کر لیا ، سوائے اس کے حق کے اور اس کا حساب اللہ کے سپرد ہے ” ۔ (بخاری و مسلم)
تشریح
حضرت عمرؓ سے اس حدیث کی روایت اس مکالمہ کے ضمن میں آتی ہے جو رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد ادائیگی زکوٰۃ سے انکار کرنے والے بعض قبائل کے خلاف جنگ کرنے کے بارے میں اُن کے اور حضرت ابو بکر صدیقؓ کے درمیان ہوا تھا ۔
اس حدیث میں بھی “لا الہ الا اللہ” کہنے سے مراد ، دعوتِ اسلام کا قبول کرنا ہے ، اور جس طرح مذکورہ سابق احادیث میں اسلام قبول کرنے کا اُخروی نتیجہ عذابِ دوزخ سے نجات اور حصول جنت بتایا گیا ہے ، اسی طرح اس حدیث میں قبول اسلام کا ایک دنیوی اور قانون نتیجہ جان و مال کا محفوظ و مامون ہو جانا بتلایا گیا ہے ۔
نیز اس حدیث میں آنحضرتﷺ نے اسلامی جنگ کے متعلق ایک نہایت اہم اور اصولی اعلان بھی فرمایا ہے ، اور وہ یہ کہ ہماری جنگ کا مقصد اس کے سوا کچھ نہیں ، کہ اللہ کے بندوں کو اس کی بندگی کے رستے پر لگایا جائے ، اور اُن کو عذابِ ابدی سے نجات دلائی جائے ، لہذا جو کوئی اللہ کے دین کو قبول کر لے ، اور اللہ ہی کی بندگی کا اقرار کر کے اس کے مقرر کئے ہوئے طریقہ زندگی (دینِ اسلام) کو اپنا دین بنا لے ، اس کے جان و مال کو ہماری طرف سے بالکل امن ہے ۔
“إِلَّا بِحَقِّهِ” کا مطلب یہ ہے کہ البتہ اگر اس نے اسلام اختیار کرنے کے بعد کوئی ایسا جُرم کیا ، کہ خود اللہ کے قانون کا تقاضا اس کو جانی یا مالی سزا دینے کا ہوا ، تو خدا وندی حکم کے مطابق اس کو سزا دی جائے گی ، اور “لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ” کہنے اور مسلمان کہلانے کی وجہ سے وہ اس قانونی سزا سے نہیں بچ سکے گا ۔
“وحسابه على اللَّهُ” کا مطلب یہ ہے ، کہ جو شخص کلمہ اسلام پڑھ کے اپنا ایمان لانا ہمارے سامنے ظاہر کرے گا ، ہم اس کو مومن اور مسلم تسلیم کر کے اس کے خلاف جنگ بند کر دیں گے ، اور اس کے ساتھ ایمان و اسلام ہی کا معاملہ کریں گے ، لیکن اگر فی الواقع اس کی نیت میں کوئی بُرائی اور اس کے دل میں کوئی کھوٹ ہو گی ، تو اس کا حساب آخرت میں اللہ تعالیٰ پر ہے ، جو عَالِمُ الْغَيْبِ اور عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ ہے ، وہ ہی اس سے حساب کر لے گا ۔
رسول اللہ ﷺ کی یہ حدیث قریب قریب انہی الفاظ میں صحیح مسلم میں حضرت جابرؓ اور طارق اشجعیؓ سے بھی روایت کی گئی ہے ، اور بعض دوسرے صحابہ کرامؓ نے اس مضمون کو کسی قدر تفصیل سے بھی روایت کیا ہے ، جس سے اس حدیث کے مضمون کی بھی اور زیادہ وضاحت ہو جاتی ہے ، ہم اُن میں سے بعض روایات ذیل میں درج بھی کرتے ہیں ۔