عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : « إِذَا نَظَرَ أَحَدُكُمْ إِلَى مَنْ فُضِّلَ عَلَيْهِ فِي المَالِ وَالخَلْقِ ، فَلْيَنْظُرْ إِلَى مَنْ هُوَ أَسْفَلَ مِنْهُ » (رواه البخارى)
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی ایسے شخص کو دیکھے جو مال و دولت اور جسمانی بناوٹ یعنی شکل و صورت میں اس سے بڑھا ہوا ہو (اور اس کی وجہ سے اس کے دل میں حرص و طمع اور شکایت پیدا ہو) تو اس کو چاہئے کہ کسی ایسے بندہ کو دیکھے جو ان چیزوں مین اس سے بھی کمتر ہو (تا کہ بجائے حرص و طمع اور شکایت کے صبر و شکر پیدا ہو) ۔ (بخاری و مسلم)
تشریح
انسان کی ایک فطری کمزوری ہے کہ جب وہ کسی ایسے شخص کو دیکھتا ہے جو مال و دولت اور دنیوی وجاہت یا شکل و صورت میں اس سے بہتر حال میں ہو ، تو اس میں اس کی طمع اور حرص پیدا ہوتی ہے ، اور خیال ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہم کو ایسا نہیں بنایا ، اس حدیث میں اس کا علاج یہ بتلایا گیا ہے کہ وہ شخص اللہ کے ایسے بندوں کو دیکھے ، اور ان کے حال پر غور کرے ، جو مال و دولت ، شکل و صورت اور عزت و وجاہت کے لحاظ سے اس سے بھی کمتر اور پسماندہ ہوں ، ان شاء اللہ ایسا کرنے سے اس بیماری کا علاج ہو جائے گا ۔