عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «ذَاقَ طَعْمَ الْإِيمَانِ مَنْ رَضِيَ بِاللهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا» (رواه مسلم)
حضرت عباس بن عبد المطلبؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سُنا ہے ، آپ فرماتے تھے کہ ایمان کا مزہ اُس نے چکھا ، اور اس کی لذت اسے ملی ، جو اللہ کو اپنا رب ، اسلام کو اپنا دین ، اور محمدﷺ کو اپنا رسول اور ہادی ماننے پر دل سے راضی وہ گیا ۔ (مسلم)
تشریح
اس کو یوں سمجھنا چاہئے کہ جس طرح لذیذ اور ذائقہ دار مادی غذاؤں میں ایک لذت ہوتی ہے ، جس کو صرف وہی آدمی پا سکتا ہے جس کی قوتِ ذائقہ کسی بیماری کی وجہ سے ماؤف اور خراب نہ ہوئی ہو ، اسی طرح ایمان میں ایک خاص لذت اور حلاوت ہے ، لیکن وہ اُن ہی خوش قسمت لوگوں کو حاصل ہو سکتی ہے جنہوں نے پوری خوش دلی اور رضائے قلبی کے ساتھ اللہ کو اپنا مالک اور پروردگار ، اور حضرت محمدﷺ کو نبی و رسول اور اسلام کو اپنا دین اور زندگی کا دستور بنا لیا ہو ، اور اللہ کی بندگی ، حضرت محمدﷺ کی اطاعت اور طریقہ اسلام کی پیروی کو اُن کے دل نے اپنا لیا ہو ، یعنی اللہ اور اسلام کے ساتھ اُن کا تعلق محض رسمی اور موروثی یا محض عقلی اور دماغی نہ ہو ، بلکہ اُن کے ساتھ دلی گرویدگی ہو ، اسی حچیث میں “رضا” کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے ، جس کو یہ نصیب نہیں ، یقیناً ایمانی لذت و حلاوت میں اس کا کوئی حصہ نہیں اور اس کا ایمان کامل نہیں ۔