عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لِأَبِي ذَرٍّ: " أَيُّ عُرَى الْإِيمَانِ أَوْثَقُ؟ " قَالَ: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: " الْمُوَالَاةُ فِي اللهِ، وَالْحُبُّ فِي اللهِ، وَالْبُغْضُ فِي اللهِ " (رواه البيهقى فى شعب الايمان)
حضرت عبد اللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ابو ذر غفاریؓ سے فرمایا : “بتلاؤ ایمان کی کون سی دست آویز زیادہ مضبوط ہے ؟” (یعنی ایمان کے شعبوں میں سے کون سا شعبہ زیادہ پائیدار ہے) ابو ذر نےعرض کیا ، کہ “اللہ و رسول ہی کو زیادہ علم ہے” (لہذا حضور ﷺ ہی ارشاد فرمائیں) آپ منے فرمایا : “اللہ کے لیے باہم تعلق و تعاون ، اور اللہ واسطے کی کسی سے محبت اور اللہ ہی کے واسطے کسی سے بغض و عداوت” ۔
تشریح
مطلب یہ ہے کہ ایمانی اعمال و احوال میں سب سے زیادہ جاندار اور پائیدار عمل اور حال یہ ہے کہ بندہ کا دنیا میں جس کے ساتھ جو برتاؤ ہو ، خواہ موالات ہو ترکِ موالات ، محبت ہو یا عداوت ، وہ اپنے نفس کے تقاضے سے اور کسی نفسانی جذبہسے نہ ہو ، بلکہصرف اللہ کے لیے اور اسی کے حکم کے ما تحت ہو ۔