عَنْ يَعْلَى قَالَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يَغْتَسِلُ بِالْبَرَازِ ، فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ : « إِنَّ اللَّهَ حَيِيٌّ سِتِّيرٌ يُحِبُّ الْحَيَاءَ وَالسَّتْرَ فَإِذَا اغْتَسَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْتَتِرْ » (رواه ابوداؤد والنسائى)
حضرت یعلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر ایک شخص پر پڑی جو کھلے میدان میں (برہنہ) غسل کر رہا تھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (قریبی مناسب وقت میں) منبر پر خطبہ دیا ، جس مین معمول کے مطابق پہلے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی اس کے بعد فرمایا ، کہ اللہ تعالیٰ خود حیا فرمانے والا اور پردہ دار ہے ، (یعنی بندوں کی جن شرمناک حرکتوں کا ظاہر کرنا شرم و حیا کے خلاف ہے ، اللہ تعالیٰ ان کو ظاہر نہیں فرماتا ، بلکہ ان کی پردہ داری فرماتا ہے اور بندوں کے لئے بھی وہ حیا داری اور پردہ داری کو پسند فرماتا ہے ، اس بناء پر اس کا حکم ہے اور میں تم کو اس کی ہدایت اور تاکید کرتا ہوں کہ جب تم میں سے کوئی غسل کیا کرے ، تو پردہ کر لیا کرے ، لوگوں کی نگاہوں کے سامنے بے پردہ کھڑا نہ ہو جایا کرے) ۔ (سنن ابی داؤد ، سنن نسائی)
تشریح
مسنون یا مستحب غسل
شریعت نے جن حالات میں غسل کو فرض و واجب قرار دیا ہے اس کا بیان ہو چکا اور اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات بھی درج کئے جا چکے ، ان کے علاوہ بھی بعض موقعوں پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل کا حکم دیا ہے ، لیکن یہ حکم بطور فرضیت اور وجوب کے نہیں ہے ، بلکہ اس کا درجہ سنت کا ہے ، اس سلسلہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چند حدیث ذیل میں پڑھئے ۔