عَنْ ابْنِ أَبِي خُزَامَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ رُقًى نَسْتَرْقِيهَا وَدَوَاءً نَتَدَاوَى بِهِ وَتُقَاةً نَتَّقِيهَا هَلْ تَرُدُّ مِنْ قَدَرِ اللَّهِ شَيْئًا؟ فَقَالَ: «هِيَ مِنْ قَدَرِ اللَّهِ» (رواه احمد والترمذى وابن ماجه)
ابو خزامہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، کہ انہوں نے بیان کیا ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا : کیا ارشاد ہے اس بارہ میں کہ جھاڑ پھونک کے وہ طریقے جن کو ہم دکھ درد میں استعمال کرتے ہیں ، یا دوائیں جن سے ہم اپنا علاج کرتے ہین ، یا مصیبتوں اور تکلیفوں سے بچنے کی وہ تدبیریں جن کو ہم اپنے بچاؤ کے لیے استعمال کرتے ہیں ، کیا یہ چیزیں اللہ کی قضاء و قدر کو لوٹا دیتی ہے ؟ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ یہ سب چیزیں بھی اللہ کی تقدیر سے ہے ۔ (مسند احمد ، ترمذی ، ابن ماجہ)
تشریح
رسول اللہ ﷺ کے جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ ہم جن مقاصد کے حاصل کرنے کے لیے جو تدبیریں اور کوششیں کرتے ہیں ، اور اس سلسلہ میں جن اسباب کا استعمال کرتے ہیں ، وہ سب بھی اللہ کی قضاء و قدر کے ماتحت ہیں ، گویا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہی یہ مقدر اور مقرر ہوتا ہے کہ فلاں شخص پر فلاں بیماری آئے گی اور فلاں قسم کے جھاڑ پھونک ، یا فلاں دوا کے استعمال سے وہ اچھا ہو جائے گا ۔۔۔ اگر غور کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ رسول اللہ ﷺ کے اس نہایت مختصر دو لفظی جواب سے مسئلہ تقدیر کے متعلق بہت سے شبہات اور سوالات کا جواب ہو جاتا ہے ۔