عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنَّ امْرَأَةً أَتَتِ النَّبِىَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِابْنَةٌ لَهَا وَفِي يَدِ ابْنَتِهَا مَسَكَتَانِ غَلِيظَتَانِ مِنْ ذَهَبٍ ، فَقَالَ : "أَتُعْطِينَ زَكَاةَ هَذَا؟"قَالَتْ : لَا ، قَالَ : "أَيَسُرُّكِ أَنْ يُسَوِّرَكِ اللَّهُ بِهِمَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ سِوَارَيْنِ مِنْ النَارِ؟" فَخَلَعَتْهُمَا ، فَأَلْقَتْهُمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَتْ : هُمَا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ.
(رواه ابوداؤد وغيره من اصحاب السنن)
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک خاتون اپنی ایک لڑکی کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں ، اور اس لڑکی کے ہاتھوں میں سونے کے موٹے اور بھاری کنگن تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : تم ان کنگنوں کی زکاۃ ادا کرتی ہو؟ اس نے عرض کیا کہ : میں اس کی زکوٰۃ تو نہیں دیتی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تو کیا تمہارے لیے یہ بات خوشی کی ہو گی کہ اللہ تعالیٰ تمہیں کنگنوں کی (زکوٰۃ نہ دینے کی) وجہ سے قیامت کے دن آگ کے کنگن پہنائے؟ اللہ کی اس بندی نے وہ دونوں کنگن ہاتھوں سے اتار کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ڈال دئیے اور عرض کیا کہ : اب یہ اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہیں۔ (سنن ابی داؤد ، جامع ترمذی ، سنن نسائی ، سنن ابن ماجہ)