عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « مَنْ أَصَابَتْهُ فَاقَةٌ ، فَأَنْزَلَهَا بِالنَّاسِ ، لَمْ تُسَدَّ فَاقَتُهُ ، وَمَنْ أَنْزَلَهَا بِاللَّهِ ، أَوْشَكَ اللَّهُ لَهُ ، بِالْغِنَى ، إِمَّا بِمَوْتٍ عَاجِلٍ ، أَوْ غِنًى آجِلٍ »
(رواه ابوداؤد والترمذى)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس آدمی کو کوئی سخت حاجت پیش آئی اور اسے اس نے بندوں کے سامنے رکھا (اور ان سے مدد چاہی) تو اسے اس مصیبت سے مستقل نجات نہیں ملے گی ، اور جس آدمی نے اسے اللہ کے سامنے رکھا اور اس سے دعا کی ، تو پوری امید ہے کہ اللہ تعالیٰ جلد ہی اس کی یہ حاجت ختم کر دے ، یا تو جلدی موت دے کر (اور اگر اس کی موت کا مقرر وقت آ گیا ہو) یا کچھ تاخیر سے خوشحالی دے کر ۔ (سنن ابی داؤد ، جامع ترمذی)