hadith book logo

Maarif ul Hadith: Hadith 877

6. کتاب الزکوٰۃ

معارف الحدیث

877
Maarif ul Hadith
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، عِنْدِي دِينَارٌ قَالَ : « أَنْفِقْهُ عَلَى نَفْسِكَ » . قَالَ : عِنْدِي آخَرُ ، قَالَ : « أَنْفِقْهُ عَلَى وَلَدِكَ » . قَالَ : عِنْدِي آخَرُ ، قَالَ : « أَنْفِقْهُ عَلَى أَهْلِكَ » . قَالَ : عِنْدِي آخَرُ ، قَالَ : « أَنْفِقْهُ عَلَى خَادِمِكَ » . قَالَ : عِنْدِي آخَرُ ، قَالَ : « أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ » (رواه ابوداؤد والنسائى)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اورعرض کیا کہ : میرے پاس ایک دینا رہے (بتائیے کہ میں وہ کہاں خرچ کروں اور کس کو دے دوں؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : (سب سے مقدم یہ ے) کہ اپنی ضرورتوں پر خرچ کرو ۔اس نے کہا کہ : اس کے لیے میرے پاس اور ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تو اسکو اپنی بیوی کی ضروریات پر خرچ کرو ۔ اس نے کہا کہ : اس کے لیے میرے پاس اور ہے ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کہ پھر اس کو اپنے غلام اور خادم پر صرف کر دو ۔ اس نے کہا کہ : اس کے لیے میرے پاس اور ہے ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کہ تم زیادہ واقف ہو (کہ تمہارے اہل قرابت میں کون زیادہ ضرورت مند اور مستحق ہے) ۔ (سنن ابی داؤد ، سنن نسائی)

تشریح
غالباً ان صاحب کے ظاہری حال سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ اندازہ کیا تھا کہ یہ خود ضرورت مند اور تنگ حال ہیں اور ان کے پاس بس ایک دینار ہے اور یہ اس کو ثواب آخرت اور اللہ کی رضا کے لیے کہیں خرچ کرنا چاہتے ہیں اور ان کو یہ معلوم نہیں کہ مومن بندہ جو کچھ اپنی ضرورتوں پر خرچ کرے یا اپنے بیوی بچوں اور غلاموں پر (جن کی اس پر ذمہ داری ہے) خرچ کرے وہ سب بھی صدقہ اور اللہ تعالیٰ کی رضا اور ثواب کا وسیلہ ہے ، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بالترتیب یہ مشورہ دیا ۔ عام اصول اور حکم یہی ہے کہ آدمی پہلے ان حقوق اور ان ذمہ داریوں کو ادا کرے جن کا وہ ذاتی اور شخصی طور پر ذمہ دار ہے اس کے بعد آگے بڑھے ۔ ہاں وہ خاصاسن خدا جن کو توکل و اعتماد علی اللہ کا بلند مقام حاصل ہو اور ان کے اہل و عیال کو بھی اس عدولت میں سے حصہ ملا ہو ان کے لیے یہ صحیح ہے کہ خود فاقہ سے رہیں ، پیٹوں پہ پتھر باندھیں اور گھر میں جو کھانا ہو وہ دوسرے اہل حاجت کو کھلا دیں ۔ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور خواص صحابہ کا حال اور طرز یہی تھا ۔وَيُؤْثِرُونَ عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ
(سورہ الحشر)