عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ يُدْنِي المُؤْمِنَ، فَيَضَعُ عَلَيْهِ كَنَفَهُ وَيَسْتُرُهُ، فَيَقُولُ: أَتَعْرِفُ ذَنْبَ كَذَا؟ فَيَقُولُ: نَعَمْ أَيْ رَبِّ، حَتَّى إِذَا قَرَّرَهُ بِذُنُوبِهِ، وَرَأَى فِي نَفْسِهِ أَنَّهُ هَلَكَ، قَالَ: سَتَرْتُهَا عَلَيْكَ فِي الدُّنْيَا، وَأَنَا أَغْفِرُهَا لَكَ اليَوْمَ، فَيُعْطَى كِتَابَ حَسَنَاتِهِ، وَأَمَّا الكَافِرُ وَالمُنَافِقُونَ، فَيَقُولُ الأَشْهَادُ: {هَؤُلاَءِ الَّذِينَ كَذَبُوا عَلَى رَبِّهِمْ أَلاَ لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ} (رواه البخارى ومسلم)
حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قیامت میں اللہ تعالیٰ ایمان والے اپنے بندے کو (اپنی رحمت سے) قریب کرے گا ، اور اس پر اپنا خاص پردہ ڈالے گا ، اور دوسروں سے اس کو پردہ میں کر لے گا ، پھر اس سے پوچھے گا ، کہ کیا تو پہچانتا ہے فلاں گناہ ، فلاں گناہ! (یعنی کیا تجھے یاد ہے ، کہ تو نے یہ یہ گناہ کئے تھے؟) وہ عرض کرے گا ہاں ! اے پروردگار ! مجھے یاد ہے ۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کے سارے گناہوں کا اس سے اقرار کرا لے گا ، اور وہ اپنے جی میں خیال کرے گا کہ میں تو ہلاک ہوا (یعنی اس کو خیال ہو گا ، کہ جب اتنے میرے گناہ ہیں ، تو اب میں کیسے چھٹکارا پا سکوں گا) پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا ، میں نے دنیا میں تیرے ان گناہوں کو چھپایا تھا ، اور آج میں ان کو بخشتا ہوں اور معافی دیتا ہوں ، پھر اس کا نیکیوں والا اعمال نامہ اس کے حوالے کر دیا جائے گا (یعنی اہلِ محشر کے سامنے صرف نیکیوں والا ہی اعمال نامہ آئے گا ، اور گناہوں معاملہ اللہ تعالیٰ پردہ ہی پردہ میں ختم کر دیں گے) لیکن اہلِ کفر اور منافقین کا معاملہ یہ ہو گا ، کہ ان کے متعلق برسر عام پکارا جائے گا ، کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے اللہ پر جھوٹی جھوٹی باتیں باندھیں (یعنی غلط اور بے اصل خیالات کو اللہ کی طرف نسبت دے کر اپنا دین و مذہب بنایا) خبردار اللہ کی لعنت ہے ایسے ظالموں پر ۔