عن ابن مسعود قال : جاء ابن النواحة وابن أثال رسولا مسيلمة إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقال لهما : أتشهدان أني رسول الله ؟ فقالا : نشهد أن مسيلمة رسول الله فقال النبي صلى الله عليه و سلم : آمنت بالله ورسوله ولو كنت قاتلا رسولا لقتلتكما . قال عبد الله : فمضت السنة أن الرسول لا يقتل . رواه أحمد
حضرت ابن مسعود کہتے ہیں کہ مسیلمہ (مدعئی نبوت) کے دو قاصد ابن نواحہ اور ابن اثال نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا کہ کیا تم اس حقیقت کی گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں ؟ ان دونوں نے کہا کہ نہیں ! بلکہ) ہم اس امر کی گواہی دیتے ہیں کہ مسیلمہ خدا کا رسول ہے۔ نبی کریم ﷺ نے (یہ سن کر) فرمایا کہ ( میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لایا ! ) اگر میں قاصدوں اور ایلچیوں کو قتل کرنے والا ہوتا تو یقینًا میں تم دونوں کو بھی قتل کردیتا۔ حضرت عبداللہ ابن مسعود کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے اس ارشاد گرامی کے پیش نظر) پھر یہ سنت جاری ہوگئی ( یعنی یہ ضابطہ قرار پایا) کہ کسی قاصد و ایلچی کو قتل نہ کیا جائے ( خواہ کتنی ہی غیر مناسب بات کیوں نہ کرے اور قتل ہی کا سزا وار کیوں نہ ہو۔ ( احمد )
تشریح
ان ایلچیوں نے جو جواب دیا اس کے ذریعہ انہوں نے گویا آنحضرت ﷺ کی رسالت کا انکار اور مسیلمہ کذاب کے خود ساختہ رسالت کا اقرار کیا اور پھر آنحضرت ﷺ نے جو یہ فرمایا کہ میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لایا تو اس کے ذریعہ گویا آپ ﷺ نے اپنے جذبہ طلب حق، صفت حلم و بربادی اور ان کے عذاب الٰہی میں جلد ہی مبتلا ہونے کا اظہار کیا نیز ان الفاظ کے ذریعہ آپ ﷺ نے اس یعنی ( مسیلمہ کذاب) کی نبوت کے انکار اور اس کے دعوے کے جھوٹا ہونے کی طرف اشارہ فرمایا۔