وعن ابن عمر أن النبي صلى الله عليه وسلم رأى صبيا قد حلق بعض رأسه وترك بعضه فنهاهم عن ذلك وقال احلقوا كله أو اتركوا كله . رواه مسلم .
اور حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ ایک دن نبی کریم ﷺ نے ایک ایسے لڑکے کو دیکھا جس کے سر کا کچھ حصہ مونڈا گیا تھا۔ چناچہ آپ ﷺ نے لڑکے کی پرورش کرنے والوں کو اس سے منع فرمایا اور فرمایا کہ پورے سر کو مونڈو یا پورے سر کو چھوڑ دو !۔ (مسلم)
تشریح
اس حدیث میں اس طرف اشارہ ہے کہ حج وعمرہ کے علاوہ بھی سر منڈانا جائز ہے۔ ویسے مسئلہ یہ ہے کہ مرد کو اختیار ہے کہ وہ چاہے سر منڈائے اور چاہے سر پر بال رکھے لیکن افضل یہ کہ سوائے حج اور عمرہ کے سر نہ منڈائے، جیسا کہ آنحضرت ﷺ اور حضرت علی (رض) کے علاوہ دوسرے صحابہ کرام کا معمول تھا اور کتاب کے ابتدائی حصہ میں باب الجنایت کے دوران اس کا ذکر گزر چکا ہے۔