حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَقْبَلْتُ رَاکِبًا عَلَی أَتَانٍ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ قَدْ نَاهَزْتُ الِاحْتِلَامَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ بِمِنًی فَمَرَرْتُ بَيْنَ يَدَيْ الصَّفِّ فَنَزَلْتُ فَأَرْسَلْتُ الْأَتَانَ تَرْتَعُ وَدَخَلْتُ فِي الصَّفِّ فَلَمْ يُنْکِرْ ذَلِکَ عَلَيَّ أَحَدٌ
یحییٰ بن یحیی، مالک، ابن شہاب، عبیداللہ بن عبداللہ، حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ میں گدھی پر سوار ہو کر حاضر ہوا اور ان دنوں میں بلوغت کے قریب تھا اور رسول اللہ ﷺ منیٰ میں لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے میں صف کے آگے سے گزر کر اترا اور گدھی کو چرنے کے لئے چھوڑ دیا اور میں خود صف میں شریک ہوگیا اور اس بات پر مجھے کسی نے اعتراض نہیں کیا۔