حَدَّثَنَا أَبُو الْخَطَّابِ زِيَادُ بْنُ يَحْيَی الْحَسَّانِيُّ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ وَرْدَانَ أَبُو صَالِحٍ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ السَّخْتِيَانِيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ عَنْ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ قَالَ قَدِمَتْ عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبِيَةٌ فَقَالَ لِي أَبِي مَخْرَمَةُ انْطَلِقْ بِنَا إِلَيْهِ عَسَی أَنْ يُعْطِيَنَا مِنْهَا شَيْئًا قَالَ فَقَامَ أَبِي عَلَی الْبَابِ فَتَکَلَّمَ فَعَرَفَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَوْتَهُ فَخَرَجَ وَمَعَهُ قَبَائٌ وَهُوَ يُرِيهِ مَحَاسِنَهُ وَهُوَ يَقُولُ خَبَأْتُ هَذَا لَکَ خَبَأْتُ هَذَا لَکَ
ابوخطاب، زیاد بن یحییٰ حسانی، حاتم بن وردان ابوصالح، ایوب سختیانی، عبداللہ بن ابی ملیکہ، حضرت مسور بن مخرمہ (رض) سے روایت ہے کہ کچھ ق بائیں رسول اللہ ﷺ کے پاس لائی گئیں تو مجھے میرے باپ مخرمہ نے کہا ہمیں آپ ﷺ کے پاس لے چلو۔ قریب ہے کہ آپ ﷺ اس میں سے کچھ ہمیں بھی عطا فرما دیں۔ میرے باپ نے کھڑے ہو کر بات کی پس نبی کریم ﷺ نے اس کی آواز پہچان لی اور آپ ﷺ نے ایک قباء لی اور آپ ﷺ ایک قباء لے کر نکلے اور آپ اس کی خوبصورتی دکھاتے ہوئے فرما رہے تھے کہ یہ میں نے آپ کے لئے رکھ چھوڑی تھی یہ میں نے تیرے لئے رکھ چھوڑی تھی۔