حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ کَعْبٍ الْحِمْيَرِيِّ أَنَّ أَبَا بَکْرٍ حَدَّثَهُ أَنَّ مَرْوَانَ أَرْسَلَهُ إِلَی أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا يَسْأَلُ عَنْ الرَّجُلِ يُصْبِحُ جُنُبًا أَيَصُومُ فَقَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ جِمَاعٍ لَا مِنْ حُلُمٍ ثُمَّ لَا يُفْطِرُ وَلَا يَقْضِي
ہارون بن سعید، ابن وہب، عمرو، ابن حارث، عبدربہ، حضرت عبداللہ بن کعب حمیری (رض) سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) بیان کرتے ہیں کہ مروان نے ان کو حضرت ام سلمہ (رض) کی طرف ایک آدمی کے بارے میں پوچھنے کے لئے بھیجا کہ وہ جنبی حالت میں صبح اٹھتا ہے کیا وہ روزہ رکھ سکتا ہے ؟ تو حضرت ام سلمہ (رض) نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ جماع کی وجہ سے جنبی حالت میں بغیر احتلام کے صبح اٹھتے پھر آپ افطار نہ کرتے اور نہ ہی اس کی قضا کرتے۔