و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی جَمِيعًا عَنْ الثَّقَفِيِّ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ کَانَتْ سَوْدَةُ امْرَأَةً ضَخْمَةً ثَبِطَةً فَاسْتَأْذَنَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُفِيضَ مِنْ جَمْعٍ بِلَيْلٍ فَأَذِنَ لَهَا فَقَالَتْ عَائِشَةُ فَلَيْتَنِي کُنْتُ اسْتَأْذَنْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَمَا اسْتَأْذَنَتْهُ سَوْدَةُ وَکَانَتْ عَائِشَةُ لَا تُفِيضُ إِلَّا مَعَ الْإِمَامِ
اسحاق بن ابراہیم، محمد بن مثنی، ثقفی ابن مثنی، عبدالوہاب، ایوب، عبدالرحمن بن قاسم، حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ حضرت سودہ (رض) بھاری بدن کی عورت تھیں جس کی وجہ سے انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے مزدلفہ سے رات ہی کو واپس آنے کی اجازت مانگی تو آپ ﷺ نے انہیں اجازت عطا فرما دی حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ کاش میں بھی رسول اللہ ﷺ سے اجازت مانگتی جیسا کہ حضرت سودہ (رض) نے آپ ﷺ سے اجازت مانگی اور حضرت عائشہ (رض) مزدلفہ سے واپس نہیں آتی تھیں سوائے امام کے ساتھ۔